عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 212
By Maulana Wahiduddin Khan
عورت عصر جدید میں اکثر بڑے واقعات کے پیچھے کوئی عورت موجود ہوتی ہے، کبھی براہِ راست طور پر اور کبھی بالواسطہ طور پر۔ اس لیے کہا گیا ہے کہ ہر بڑی چیز کے آغاز میں کسی عورت کا ہاتھ ہے: There is a woman at the beginning of all great things. اس معاملہ کی شاید سب سے بڑی تاریخی مثال ہاجرہ زوجہ ابراہیم کی ہے۔ ہاجرہ نے اپنی بے مثال قربانی کے ذریعہ تاریخِ بشری میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ یہ ایک ایسا انقلاب تھا جس کے اثرات ساری دنیا میں محسوس کیے گئے۔ چار ہزار سال پہلے دنیا کا نقشہ اس سے بالکل مختلف تھا جو آج ہمیں نظر آتا ہے۔ اس وقت ساری دنیا میں شرک (بت پرستی) کا غلبہ تھا۔ صدیوں کے عمل سے شرک نے ایک مکمل تمدن کی صورت اختیار کر لی تھی۔ یہ ایک مشرکانہ کلچر تھا۔ جو عورت اور مرد پیدا ہوتے وہ اسی کے رنگ میں رنگ جاتے۔ اسی حقیقت کی طرف پیغمبرِ خدا حضرت ابراہیم نے ان الفاظ میں اشارہ کیا تھا: رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ (14:36)۔ یعنی، اے میرے رب، ان بتوں نے بے شمار لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ مشرکانہ کلچر کے اس عمومی غلبہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری انسانیت شرک اور توہم پرستی کے اوپر قائم ہوگئی۔ لوگ ان فائدوں سے محروم ہو گئے جو توحید کے زیرِ اثر انہیں حاصل ہوتا ہے۔ اس وقت خدا کے حکم کے تحت ابراہیم نے ایک دور رس منصوبہ بنایا۔ انہوں نے اپنی زوجہ ہاجرہ اور اپنے بچہ اسماعیل کو لا کر مکہ کے پاس صحرا میں بسا دیا۔ ابراہیم خدا کے پیغمبر تھے۔ ایک اندازہ کے مطابق، وہ 2160 ق م میں پیدا ہوئے اور 1985 ء ق م میں انھوں نے وفات پائی۔ ہاجرہ ان کی زوجہ تھیں ۔ ان کو ان کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader