عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 213
By Maulana Wahiduddin Khan
چھوٹے بچے اسماعیل کے ساتھ ایک بے آب و گیاہ صحرا میں آباد کرنا ایک غیر معمولی قربانی کا عمل تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ فطرت کے اس ماحول میں ایک نئی نسل تیار کی جائے جو مشرکانہ تمدن کے اثرات سے پاک ہو۔ توالد و تناسل کے ذریعہ یہ نسل بنتی رہی۔ یہاں تک کہ اس عمل پر تقریباً ڈھائی ہزار سال بیت گئے۔ اس وقت اس نسل ( بنو اسماعیل) کی مطلوب تعداد وجود میں آ چکی تھی۔ چنانچہ 570ء میں اس نسل میں پیغمبر آخر الزماں محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ بنو اسماعیل کی نسل ایک بے حد زندہ نسل تھی۔ اس کے افراد میں تمام انسانی صفات (human qualities) پوری طرح موجود تھیں۔ محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو 610ء میں مکہ میں نبوت ملی۔ 632ء میں مدینہ میں ان کی وفات ہوئی ۔ اس مدت میں آپ نے قرآن کی رہنمائی میں زبردست دعوتی عمل کیا۔ یہاں تک کہ ان میں سے دولاکھ سے زیادہ عورت اور مرد اپنے آبائی مذہب کو چھوڑ کر آپ کے ساتھ شریک ہو گئے ۔ اس طرح آپ کے پیروں کی ایک طاقتور ٹیم بنی جس نے تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب برپا کیا۔ یہی لوگ تھے جنھوں نے سب سے پہلے بادشاہت کے مضبوط نظام کو ختم کیا۔ اس کے بعد شرک اور توہم پرستی کا دور بھی ختم ہو گیا جو قدیم بادشاہت کی سرپرستی میں قائم تھا۔ شرک کیا ہے ۔ شرک فطرت کے مظاہر (سورج، چاند، دریا، پہاڑ، وغیرہ) کو پوجنے کا دوسرا نام ہے۔ اس مشرکانہ نظام کے تحت فطرت کے مظاہر پرستش کا موضوع بنے ہوئے تھے۔ جب شرک مغلوب ہوا تو قدرتی طور پر فطرت کے مظاہر تحقیق و تسخیر کا موضوع بن گئے ۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا کہ توہم پرستی کا دور ختم ہو کر سائنس کے دور کا آغاز ہوا۔ توہم پرستی اور بادشاہت کے خاتمہ ہی کا نتیجہ تھا کہ دنیا میں بتدریج آزادی اور جمہوریت اور مختلف طبقوں کے درمیان مساویانہ اختلاط کا دور شروع ہوا۔ اس کے نتیجہ میں آخر کار وہ نئی دنیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader