Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 214

By Maulana Wahiduddin Khan

ظہور میں آئی جس کو صنعتی تہذیب (industrial civilization) کہا جاتا ہے۔ یہ تقریبا چار ہزار سال کی کہانی ہے۔ ہاجرہ اور ان کی نسل میں پیدا ہونے والی بعد کی خواتین کی قربانی کا یہ پھل پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہزار سال تک انسانیت کو ملتا رہا۔ اب تقریبا دو صدی سے انسانیت دوبارہ پہلے کی طرح ایک اور بھنور میں پھنس گئی ہے۔ یہ مادہ پرستی (materialism) کی بھنور ہے۔ پچھلے زمانہ میں اگر دنیا بت پرستی کی برائی سے دوچار تھی تو اب پچھلی دو صدی سے دنیا مادہ پرستی کی برائی میں مبتلا ہے۔ یہ دوسرے دور کی برائی کسی بھی طرح پہلے دور کی برائی سے کم نہیں۔ پچھلے دور کی برائی نے دنیا کو اگر مادی ترقیوں سے محروم کر رکھا تھا تو دوسرے دور میں خود مادی ترقی دنیا کے لیے ہلاکت کا سبب بن گئی ہے۔ اس نے انسان کو روحانی ترقی سے محروم کر رکھا ہے۔ اس ہلاکت کا سب سے برا پہلو یہ ہے کہ نظام اقدار (value system) مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ گیا ہے۔ آج کے مرد اور عورت کے لیے صرف ان کی ذاتی خواہشیں ان کا واحد رہنما ہیں۔ لوگوں کے درمیان مادی مفادات کی جنگ اپنی بدترین شکل میں جاری ہے۔ ذاتی مسرت (pleasure) کو حاصل کرنا ہی لوگوں کا واحد مقصود بن گیا ہے، خواہ وہ دوسروں کی مسرتوں کا خاتمہ کر کے کیوں نہ حاصل ہو رہی ہو۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ دوبارہ دنیا میں ہاجرہ جیسی خواتین پیدا ہوں جو اپنی قربانیوں کے ذریعہ تاریخ کو نیا موڑ دیں، وہ مادہ پرستی کے دور کو دوبارہ توحید پرستی کے دور کی طرف واپس لے جائیں۔ موجودہ تباہ کن صورت حال کا اصل سبب کیا ہے۔ اس کا اصل سبب گھر کے ادارہ (home institution) کا تباہ ہو جانا ہے۔ گھر کا ادارہ لمبی مدت سے انسان کے لیے اقدار پر مبنی تعلیم (value based education) کا مرکز بنا ہوا تھا۔ فطری نظام کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page