Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 215

By Maulana Wahiduddin Khan

تحت پوری انسانیت ماؤں کی سرپرستی میں تربیت پا کر باہر کی دنیا میں آتی تھی۔ ہر بچہ کے سر پرست اس کی اقدار پر مبنی تعلیم (value education) کا ذریعہ بنے ہوئے تھے۔ یہی خاص وجہ ہے جس کی بنا پر قدیم زمانہ میں کبھی اقدار کے بحران (value crisis) کے وہ حالات پیدا نہیں ہوئے جو موجودہ زمانہ میں عالمی سطح پر دکھائی دیتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں تحریر نسواں (women's lib) اور منفی برابری (gender equality) کے انتہا پسندانہ تصور کے تحت یہ ہوا کہ عورتوں کے لیے یہ زیادہ بڑی چیز سمجھی جانے لگی کہ وہ گھر سے باہر آ کر ہر شعبہ میں مردوں کے دوش بدوش کام کریں ۔ ان عورتوں نے یہ نعرہ دیا کافی نہ بناؤ، پالیسی بناؤ: Don't make coffee, make policy اس نعرہ کے نتیجہ میں عورتیں باہر کے شعبوں میں کام کرنے لگیں اور گھر کا محاذ (front) عملاً خالی ہو گیا۔ اس بنا پر بہت سے مصنوعی مسئلے پیدا ہوئے ۔ مثلاً باہر کی زندگی میں مردوں کے لیے بے روزگاری (unemployment) اور گھر یلو زندگی میں بچوں کا اخلاقی تربیت سے محروم ہو جانا۔ کچھ لوگوں نے اس اخلاقی بحران کا یہ حل پیش کیا کہ اخلاقی تعلیم (value education) کو اسکول کے نصاب میں ایک ضمنی سبجیکٹ کے طور پر شامل کر دیا جائے ۔ چنانچہ بہت سے ملکوں میں اس پر عمل کیا گیا گر نتیجہ بالکل بے سود ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ طالب علم اسکول یا کالج میں جو کچھ پڑھتا ہے وہ امتحان پاس کرنے کے لیے پڑھتا ہے، وہ اس کو اپنی سیرت کی تعمیر کے طور پر نہیں لیتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اخلاق کی تعلیم یا سیرت کی تعمیر کا کام اسی انداز پر ہو سکتا ہے جیسا کہ وہ قدیم میں ہورہا تھا۔ یعنی ماؤں کی سرپرستی میں گھر کے ادارہ کے ذریعہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page