عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 216
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل یہ ہے کہ یہ کوئی سادہ کام نہیں۔ یہ تاریخ کے دھارے کو موڑنے کی بات ہے۔ اور تاریخ کے دھارے کو موڑنے کا کام صرف قربانی اور دیرپا عمل (sustained effort) کے ذریعہ ہوسکتا ہے۔ وہ اس طرح نہیں ہوسکتا کہ اسکول یا کالج میں اخلاق کے موضوع پر کچھ توسیعی لیکچرس دلائے جائیں یا مارل ٹیچنگ کے نام سے کچھ پمفلیٹس تیار کر کے اس کو اسکول کے نصاب میں شامل کر دیا جائے۔ دورِ قدیم میں جب تو ہم پرستانہ تمدن کا غلبہ تھا اس وقت تو ہم پرستی کے دور کو ختم کر کے سائنٹفک دور لانے کے لیے خواتین کے ایک گروہ نے قربانی دی۔ اس کی فہرست میں پہلا قابل ذکر نام ہاجرہ کا ہے۔ ان خواتین نے شہری سہولتوں کو چھوڑ کر صحرا کی خشک زندگی اختیار کی۔ انھوں نے آرام وراحت کو چھوڑ کر سادگی اور قناعت کا طریقہ اختیار کیا۔ انھوں نے پرسکون زندگی کو چھوڑ کر مسائل سے بھری زندگی کو اپنایا۔ انھوں نے ذاتی خواہشوں کی تسکین کا راستہ چھوڑ کر انسانیت کے وسیع تر مفاد کو اپنے لیے چن لیا۔ اس طرح کی زندگی انہیں چند جنریشن تک گزارنی پڑی۔ اس کے بعد ان کے لیے ہر طرح کی کامیابی کے دروازے کھل گئے۔ یہاں تک کہ ان کے حال پر شاعر کا شعر صادق آیا: اگر کچھ مرتبہ چاہے تو اس ہستی کو باطل کر کہ دانا بارور ہوتا ہے پہلے خاک میں مل کر عام طور پر یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہر قسم کی مادی ترقیوں کے باوجود ہماری مطلوب بہتر دنیا نہ بن سکی۔ آج کی دنیا میں ایک طرف مادی ترقیوں کی چمک دمک ہے اور دوسری طرف انسانی آبادیوں میں منفی رجحانات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ مثلاً: نفرت اور تشدد، تناؤ اور ذہنی عدم توازن، عدم اطمینان، طلاق، انسانی قدروں کا فقدان، وغیرہ وغیرہ۔ اس صورت حال کا بنیادی سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ مرد اور عورت دونوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader