Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 217

By Maulana Wahiduddin Khan

خارجی کاموں کی ادائیگی میں لگ گئے۔ اور گھر کے ادارے کو سونا کر کے چھوڑ دیا جہاں سیرت کی تعمیر کا کام ہوتا تھا۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ عورت اور مرد تقسیم کار کے معروف اصول کو اختیار کر کے اپنی اس تاریخی ذمہ داری کو ادا کریں۔ مرد تمدن کی گاڑی کو چلانے کا کام کریں۔ اور جہاں تک عورتوں کا تعلق ہے، وہ اسکول کی تعلیم کا چارج لے کر نسل انسانی کی تیاری کے کام میں لگ جائیں ۔ تقسیم کار کا یہ فارمولا ہی واحد فارمولا ہے جس کو اختیار کر کے انسانیت کی نئی تعمیر کی جاسکتی ہے۔ کوئی بھی دوسرا فارمولا اس مقصد کے حصول کے لیے کارآمد نہیں۔ عورتیں انسانی نسل کے لیے معلم اور مربی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ قدیم زمانہ میں ہوتا تھا کہ عام عورتوں کو یہ بچے اپنے گھروں میں مل جاتے تھے۔ تقریباً ہر بچہ اپنی ابتدائی عمر میں گھر کی خواتین کے زیر سایہ رہ کر اپنا اخلاقی تعلیم کا کورس پورا کر لیتا تھا۔ مگر موجودہ دور میں صنعتی انقلاب نے اس صورت حال کو بدل دیا ہے۔ اب بچے اپنی ابتدائی عمر ہی سے اسکولوں میں بھیج دیے جاتے ہیں۔ تا ہم یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ اس صورت حال کا مطلب صرف یہ ہے کہ اب عورتوں کا مقام عمل (work place) بدل گیا ہے۔ اب وہ گھر سے نکل کر اسکول میں آ گیا ہے۔ ایسی حالت میں عورتوں کا کام یہ ہے کہ وہ بدلے ہوئے حالات کو سمجھیں اور بچوں کے اسکول کی تعلیم کا چارج اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ تا کہ انسان کی تیاری کا جو کام پہلے سادہ انداز میں گھروں کے اندر ہوتا تھا وہ اب زیادہ منظم انداز میں اسکولوں کے اندر ہونے لگے۔ انسانی نسلوں کی تربیت کے بارے میں عورت کا رول موجودہ زمانہ میں بھی جاری ہے۔ مگر زمانی تبدیلی کی بنا پر اس میں ایک فرق واقع ہوا ہے۔ پچھلے زمانہ میں گھر کا ادارہ اس مقصد کے لیے کافی ہوتا تھا۔ اب عورت کو اپنی یہ فطری ذمہ داری اسکول کے ماحول میں ادا کرنا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page