عورت معمارِ انسانیت
Urdu book, p. 218
By Maulana Wahiduddin Khan
اس زمانی تبدیلی نے ایک اور تقاضا پیدا کیا ہے۔ وہ یہ کہ اب عورت کو سب سے پہلے خود اپنے آپ کو تیار کرنا ہے۔ اس کے بعد ہی وہ اس قابل ہو سکتی ہے کہ وہ اسکول میں اپنے مطلوب کردار کو ادا کرنے کے قابل ہو سکے۔ وہ تقاضا یہ ہے کہ عورت کو اب باقاعدہ نوعیت کی تعلیم حاصل کرنا ہے۔ اس کو جدید فن تعلیم میں مہارت پیدا کرنا ہے۔ اس کو ڈگری والی تعلیم حاصل کر کے یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اسکول، بالفاظ دیگر، اپنے تو سیعی مقام عمل کا چارج لے کر اپنی فطری ذمہ داری کو ادا کرنے کی )extended work place( پوری طرح اہل ہے۔ موجودہ زمانہ میں عورت اپنی اس ذمہ داری کو پروفیشنل ایجوکیشن کے بغیر ادا نہیں کر سکتی۔ تقسیم کار کا اصول انسانی سماج میں جو سرگرمیاں ہیں اُن کا ایک حصہ حکومت ہے جس کو ایڈمنسٹریشن کہا جاتا ہے۔ اس شعبہ کا کام نظامِ ملکی کو سنبھالنا ہے۔ موجودہ جمہوری زمانہ میں اس شعبہ کے افراد عام طور پر پانچ سال کے بعد بدل جاتے ہیں۔ ایک میعاد )term( کے خاتمہ پر اگلی میعاد کے لیے الیکشن ہوتا ہے۔ اور جو لوگ الیکشن میں چنے جاتے ہیں وہ اگلی میعاد کے لیے نظامِ ملکی کا کام سنبھالتے ہیں۔ یہ کسی سماج کا سیاسی شعبہ ہے۔ اس شعبہ کی کامیابی کا انحصار زیادہ تر اس پر ہے کہ ہر نئی میعاد پر آزادانہ اور منصفانہ )free and fair( الیکشن ہو۔ اور اس الیکشن میں جو لوگ چُن کر آئیں وہ دیانت داری کے ساتھ اپنی حکومتی ذمہ داریوں کو ادا کریں۔ اس شعبہ کے علاوہ سماج کی جو سرگرمیاں ہیں ان کو دو بڑے شعبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک شعبہ وہ ہے جس کو پیداواری سرگرمیاں )productive activities( کہا جاتا ہے۔ یعنی زراعت اور صنعت اور اس طرح کے دوسرے شعبے جو زندگی کی ضروریات کی تیاری اور فراہمی کے ذمہ دار ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader