Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

تقسیم کار کا اصول

Urdu book, p. 219

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرا شعبہ وہ ہے جس کو تعلیمی سرگرمیاں (educational activities) کہا جا سکتا ہے۔ اس دوسرے شعبہ میں رسمی تعلیم (formal education) اور غیر رسمی تعلیم (informal education) دونوں ہی یکساں حیثیت سے شامل ہیں۔ یہ شعبہ اپنے مختلف شاخوں کے ساتھ اس بات کا ذمہ دار ہے کہ وہ ہر نئی نسل کی تعلیم و تربیت کرے۔ تاکہ انسانیت کے قافلہ کو نسل در نسل تیار شدہ افراد ملتے رہیں۔ تقسیم کار کے اصول کے مطابق، یہ ہونا چاہیے کہ حیاتِ انسانی کا پہلا شعبہ (پیداواری سرگرمیوں کا شعبہ) بنیادی طور پر مردوں کے زیرِ انتظام ہو۔ مرد اپنی خداداد صلاحیتوں کے صحت مند استعمال کے ذریعہ تعمیرِ انسانیت کا یہ کام کرتے رہیں۔ وہ ہر دور میں انسانیت کی معاشی اور اقتصادی ضرورتوں کی تعمیر کی ذمہ داری ادا کرتے رہیں۔ زندگی کا دوسرا شعبہ (تعلیمی سرگرمیوں کا شعبہ) بنیادی طور پر عورت کی تحویل میں دے دیا جائے ۔ اس شعبہ کے سنبھالنے کے لیے عورتیں فطری طور پر زیادہ موزوں صلاحیت رکھتی ہیں۔ وہ اس شعبہ کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر انجام دے سکتی ہیں۔ اس دوسرے شعبہ میں کئی چیزیں شامل ہیں۔ اسکول کی تعلیم ، صحافت (Journalism)، ریڈیو، ٹیلی ویژن، لٹریچر، وغیرہ۔ یہی دوسرا شعبہ انسان سازی کا اصل ذمہ دار ہے۔ موجودہ دور میں نئے وسائل کی ایجاد نے اس شعبہ کو ہمیشہ سے زیادہ مؤثر بنا دیا ہے۔ آج اس شعبہ کو جس طرح منظم اور ہمہ گیر انداز میں چلایا جا سکتا ہے، اس طرح پچھلے کسی دور میں اُس کو چلانا ممکن نہ تھا۔ آج حالات کا تقاضا ہے کہ ضروری اخلاقی پابندیوں کے دائرہ میں رہتے ہوئے عورتیں فارمل ایجوکیشن اور انفارمل ایجوکیشن کے تمام شعبوں کو سنبھالیں اور انسانیت کی ذہنی اور اخلاقی تعمیر کا کام کرنے میں لگ جائیں۔ وہ انسانی نسلوں کی معلم اور مربی بن کر اپنا وہ تاریخی رول ادا کریں جو قدرت نے اپنی تخلیقی نقشہ کے مطابق ان کے لیے مقدر کر دیا ہے۔ خواتین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page