طلاق کا شرعی طریقہ
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان اگر کبھی ایسی صورت پیدا ہو کہ وہ طلاق لے کر جدا ہونا چاہیں تو ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ فوری طور پر طلاق دے کر دونوں ایک دوسرے سے مستقل طور پر جدا ہو جائیں۔ بلکہ شریعت کے مطابق ، اس کا ایک مقرر طریقہ (prescribed method)ہے۔ یہ طریقہ قرآن میں اس طرح بتایا گیا ہے: طلاق دو بار ہے۔ پھر یا تو قاعدہ کے مطابق رکھ لینا ہے یا خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کر دینا (2:229)۔ زوجین کے درمیان طلاق کا خیال عام طور پر غصہ کی حالت میں آتا ہے۔ شوہر کو عورت کی کسی بات پر ناراضگی ہوئی۔ پھر دونوں میں تکرار ہوئی جو شدید غصہ تک پہنچ گئی۔ اس طرح غصہ کی حالت میں انتہائی اقدام کے طور پر شوہر کے منھ سے نکل جاتا ہے کہ میں نے تم کو طلاق دیا۔ مگر شریعت کے مطابق ، طلاق کی تکمیل کے لیے تین بار طلاق ضروری ہے۔ اور یہ تین طلاق تین مہینہ میں الگ الگ دیا جانا چاہیے۔ یعنی دو مہینہ میں ایک ایک بار طلاق اور پھر تیسرے مہینہ میں یا تو فائنل طلاق یا رجوع۔ یہ طریقہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ غصہ ہمیشہ وقتی ہیجان کے تحت ہوتا ہے۔ اس لیے جب وقت گزرتا ہے تو غصہ بھی ختم ہو جاتا ہے اور اسی کے ساتھ طلاق کا خیال بھی۔ گو یا طلاق کے مذکورہ طریقہ کا مطلب طلاق پر روک قائم کرنا ہے، نہ کہ طلاق کو حتمی حیثیت دینا۔ کچھ مسلمان ایسا کرتے ہیں کہ وہ ایک ہی مجلس میں اور ایک ہی بار تین طلاق دے دیتے ہیں ۔ یہ بلاشبہ شرعی قانون کا غلط استعمال (misuse) ہے ۔ چنانچہ خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں جب کچھ لوگوں نے ایک مجلس میں تین طلاق دی تو حضرت عمر کے حکم سے اُن کی پیٹھ پر کوڑے برسائے گئے (سنن سعید بن منصور، حدیث نمبر 1073)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader