Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

تقسیم کار کا اصول

Urdu book, p. 221

By Maulana Wahiduddin Khan

خلاصۂ کلام اس دنیا کا نظام خالق فطرت نے زوجین کے اصول پر بنایا ہے۔ یہ اصول اتنا عام ہے کہ وہ صرف نر اور مادہ یا مذکر اور مونث کے دائرہ تک محدود نہیں۔ دو عناصر کے ملنے سے ایک نتیجہ نکلنے کا یہ اصول اس سے بھی زیادہ عام ہے۔ وہ اس دنیا کی تقریباً ہر چیز پر چسپاں ہوتا ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی با معنی واقعہ دو کے ملنے سے انجام پاتا ہے۔ مثلاً دو گیسوں (ہائیڈروجن اور آکسیجن) کے ملنے سے پانی جیسی با معنی چیز کا بننا۔ اسی طرح ’’دیکھنا‘‘ اس دنیا کا ایک نہایت عجیب با معنی واقعہ ہے۔ اگر ہماری دنیا میں سب کچھ ہو مگر یہاں دیکھنے کا ظاہر ہ موجود نہ ہو تو ساری دنیا اچانک ایک بے معنی قسم کا تاریک جنگل بن جائے گی۔ مگر دیکھنے کا یہ عمل دو چیزوں کی یکجائی سے وجود میں آتا ہے، اور وہ روشنی اور آنکھ ہے۔ اگر یہاں روشنی ہو کر آنکھ نہ ہو، یا آنکھ ہو کر روشنی نہ ہو تو دنیا میں سب کچھ ہو گا مگر دیکھنے کا واقعہ وجود میں نہیں آئے گا۔ جب کہ دیکھنے ہی کے واقعہ میں دنیا کی تمام رونقیں قائم ہیں۔ اسی قسم کا معاملہ عورت اور مرد کا بھی ہے۔ وہ چیز جس کو زندگی کی تعمیر کہا جاتا ہے، وہ صرف اس وقت وجود میں آسکتی ہے جب کہ مرد اور عورت دونوں اس عمل میں برابر کا حصہ ادا کریں۔ ان میں سے کوئی بھی تنہا زندگی کی تعمیر کے عمل کو انجام نہیں دے سکتا۔ تاہم اس مشترکہ عمل کو واقعہ بنانے کے لیے ایک چیز کی لازمی ضرورت ہے اور وہ ایڈجسٹمنٹ ہے۔ چکی کے دو پاٹ مل کر چلتے ہیں تب ایسا ہوتا ہے کہ گیہوں آٹے کی صورت اختیار کرے اور انسان کے لیے قابل استعمال خوراک بنے۔ مگر اس عمل میں چکی کے ایک پاٹ کو اوپر اور ایک پاٹ کو نیچے ہونا پڑتا ہے۔ اس عملی مفاہمت کے بعد ہی ممکن ہوتا ہے کہ چکی کے دو پاٹ کسی با معنی چیز کو وجود میں لاسکیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page