Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

تقسیم کار کا اصول

Urdu book, p. 222

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی طرح زندگی کی تعمیر میں عورت اور مرد کو جو مشترک عمل انجام دینا پڑتا ہے اس میں بھی ایڈ جسٹمنٹ لازمی طور پر ضروری ہے۔ فطرت کے تخلیقی نقشہ کے مطابق ، عورت نصف انسانیت ہے۔ عزت اور مرتبہ کے اعتبار سے عورت اور مرد دونوں کا درجہ مکمل طور پر برابر ہے۔ سماج اور قانون کی نظر میں یہ دونوں صنفیں ہر اعتبار سے یکساں حیثیت رکھتی ہیں۔ تاہم فطرت کے عام اصول کے مطابق ، عورت اور مرد کے درمیان تقسیم کار کا طریقہ رکھا گیا ہے۔ انسانی سرگرمیوں کے کچھ شعبے مرد سے متعلق ہیں اور کچھ شعبے عورت سے متعلق کیے گئے ہیں۔ انسانی سماج کی مجموعی ترقی کے لیے اس سے بہتر کوئی اور نظام نہیں۔ اسلام کے مطابق ، موجودہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے۔ مرد کا مرد ہونا بھی ایک ذمہ داری ہے ، اور عورت کا عورت ہونا بھی ایک ذمہ داری۔ دونوں کے لیے کامیابی یا ناکامی کا ایک ہی معیار ہے۔ اور وہ یہ کہ دونوں اپنی تفویض کردہ ذمہ داری کی ادائیگی میں پورے اتریں۔ عورت نے ہمیشہ بڑے بڑے کارنامے انجام دیے ہیں۔ اگر چہ مدون تاریخ میں اس کا تذکرہ بہت کم ملتا ہے۔ لیکن اس کمی کا تعلق صرف عورتوں سے نہیں ، بلکہ اس کا تعلق مردوں سے بھی ہے۔ تاریخ نویسی کا اسلوب جو قدیم زمانہ میں جاری ہوا ، اس میں زیادہ تر جنگی اور سیاسی شخصیتوں کے تذکرے ہوتے تھے۔ بدقسمتی سے اب بھی یہ ذوق بڑی حد تک موجود ہے۔ چنانچہ غیر سیاسی مردوں کے کارنامے مدون تاریخ میں بہت کم پائے جاتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح عورتوں کی غیر سیاسی خدمات بھی ، اپنی تمام عظمتوں کے باوجود ، تاریخ کے صفحات میں بہت کم جگہ پا سکی ہیں۔ میرے مطالعہ اور تجربہ کے مطابق ، دنیا کے تمام قابل ذکر واقعات کے پیچھے اکثر کوئی نہ کوئی عورت ، ماں یا بیوی کے روپ میں موجود ہوتی ہے۔ آپ اگر کامیاب انسانوں کا سروے کریں اور ان سے پوچھیں کہ تمہاری زندگی کی کامیابی میں سب سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page