تقسیم کار کا اصول
Urdu book, p. 223
By Maulana Wahiduddin Khan
زیادہ کس کا ہاتھ ہے تو اکثر لوگ اپنی ماں یا اپنی بیوی یا کسی خاتون کا نام لیں گے۔ یہی معاملہ اُن لیڈروں کا ہے جن کی طرف بڑے بڑے واقعات منسوب کیے جاتے ہیں۔ اُن میں سے اکثر نے یہ اقرار کیا ہے کہ ان کی شخصیت کو بنانے میں سب سے زیادہ دخل ان کی ماں یا ان کی بیوی یا اور کسی قریبی خاتون کا تھا۔ مشہور امریکی موجد ایڈیسن (Thomas Alva Edison) کا قول ہے: The real force behind all of my successes is my mother. اس اعتبار سے دیکھیے تو زندگی کی تعمیر میں سب سے زیادہ مؤثر حصہ عورت کا ہوتا ہے، کبھی اعلان کے ساتھ اور اکثر بلا اعلان۔ یہ ایک ایسا انسانی تجربہ ہے جو خواہ مدون تاریخ کے صفحات میں جگہ نہ پا سکا ہو مگر اپنے ذاتی تجربہ کی روشنی میں ہر آدمی اس کو جانتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں آزادی نسواں کی تحریک عالمی سطح پر چلائی گئی۔ میرے نزدیک یہ ایک غیر فطری تحریک تھی۔ زیادہ صحیح یہ ہے کہ ذمہ داری نسواں کی تحریک چلائی جائے۔ ذمہ داری نسواں کی تحریک عورتوں کے تعمیری کردار کو ابھارتی۔ مگر آزادی نسواں کی غیر فطری تحریک نے صرف بے قیدی کا مزاج پیدا کیا۔ موجودہ زمانہ میں آزادی نسواں کی اس غیر فطری تحریک نے جو سب سے بڑا نقصان پہنچایا ہے وہ یہ کہ انسانی تعمیر کا نصف ادارہ ٹوٹ پھوٹ گیا۔ یہاں تک کہ وہ انسانیت کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کرنے کے قابل نہ رہا۔ اب انسانیت کا مستقبل اس پر منحصر ہے کہ اس داخلی ادارہ کو دوبارہ اسی طرح قائم کیا جائے جس طرح وہ پہلے قائم تھا۔ انسانیت کی تاریخ اسی مقام پر رُکی ہوئی ہے اور اس تاریخ کو دوبارہ اسی مقام سے سرگرمِ سفر کیا جاسکتا ہے۔ عورت ہو یا مرد، دونوں کے لیے مقدر ہے کہ وہ انسانیت کی تعمیر میں ایک عظیم کردار ادا کریں۔ اس کردار کی کامیاب ادائیگی کے لیے دونوں کو یہ کرنا ہے کہ اس مقصد کے لیے اپنے آپ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader