Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

تقسیم کار کا اصول

Urdu book, p. 224

By Maulana Wahiduddin Khan

کو تیار کریں۔ وہ اُس فن کو سیکھیں جسے فنِ تنظیمِ حیات (art of life management) کہا جا سکتا ہے۔ وہ اپنی شخصیت میں چھے ہوئے امکانات (potentials) کو جانیں ۔ وہ اپنی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کر کے اپنے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کریں ۔ وہ ذہنی ارتقاء (intellectual development) کے ذریعہ اپنی فکری سطح کو بلند کریں ۔ وہ اصول تمیز (principle of differentiation) میں درک حاصل کریں۔ اِس کے ساتھ وہ اِس حقیقت کو جانیں کہ اِس دنیا میں صبر کے بغیر کوئی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا۔ صبر انسان کے اندر اعتدال پیدا کرتا ہے۔ صبر انسان کو اِس سے بچاتا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر اپنی طاقت کو ضائع کرے۔ صبر انسان کو اِس قابل بناتا ہے کہ وہ اختلاف کو ٹکراؤ تک نہ جانے دے۔ صبر متحدہ جدوجہد کی لازمی ضرورت ہے۔ صبر مایوسی کو اُمید میں تبدیل کرتا ہے۔ صبر آدمی کے اندر یہ پختگی (maturity) پیدا کرتا ہے کہ جو چیزیں بدلنے کے قابل ہیں اُن کو وہ بدل لے اور اِن چیزوں کے ساتھ وہ ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ کرے جن کو وہ بدل نہیں سکتا۔ زندگی میں کوئی بڑا رول ادا کرنے کے لیے انسان کو اپنی انا کے خول سے باہر آنا پڑتا ہے۔ اِس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ سطحیّت اور خود غرضی اور تنگ نظری جیسی کمزوریوں سے پاک ہو۔ وہ سادہ زندگی اور اعلیٰ سوچ (simple living, high thinking) کی خصوصیت اپنے اندر رکھتا ہو۔ وہ وقت کی قدر کو پانے اور اِس کو بھر پور طور پر استعمال کرے ۔ وہ اپنے آپ کو غیر اہم یا غیر متعلق چیزوں میں الجھنے سے بچائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد کی حیثیت پیدائشی طور پر ایک عظیم امکان کی ہے۔ اِس امکان کو واقعہ بنانے ہی کا دوسرا نام کامیابی ہے۔ وحیدالدین نئی دہلی، 19 جولائی 2004

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page