Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

معاملہ کی کتابت اور گواہی

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

4۔ معاملہ کی کتابت اور گواہی قرآن کے مطابق، جب دو آدمیوں کے درمیان کوئی لین دین کا معاملہ ہو تو اُس کو کاغذ پر تحریر کر لیا جائے اور اس پر گواہی درج کرلی جائے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت کا ترجمہ یہ ہے: اے ایمان والو! جب تم کسی مقررہ مدت کے لیے ادھار کا لین دین کرو تو اس کو لکھ لیا کرو۔ اور اس کو لکھے تمہارے درمیان کوئی لکھنے والا انصاف کے ساتھ۔ اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے، جیسا اللہ نے اس کو سکھایا اسی طرح اس کو چاہیے کہ لکھ دے۔ اور وہ شخص لکھوائے جس پر حق آتا ہے۔ اور وہ ڈرے اللہ سے جو اس کا رب ہے اور اس میں کوئی کمی نہ کرے۔ اور اگر وہ شخص جس پر حق آتا ہے بے سمجھ ہو یا کمزور ہو یا خود لکھوانے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو چاہیے کہ اس کا ولی انصاف کے ساتھ لکھوا دے۔ اور اپنے مردوں میں سے دو آدمیوں کو گواہ کرلو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں، ان لوگوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو۔ تا کہ اگر ایک عورت بھول جائے تو دوسری عورت اس کو یاد دلا دے۔ اور گواہ انکار نہ کریں جب وہ بلائے جائیں۔ اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا، میعاد کے تعین کے ساتھ اس کو لکھنے میں کاہلی نہ کرو۔ یہ لکھ لینا اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کا طریقہ ہے اور گواہی کو زیادہ درست رکھنے والا ہے اور زیادہ قرین قیاس ہے کہ تم شبہ میں نہ پڑو۔ لیکن اگر کوئی سودا دست بدست ہو جس کا تم آپس میں لین دین کیا کرتے ہو تو تم پر کوئی الزام نہیں کہ تم اس کو نہ لکھو۔ مگر جب تم سودا کرو تو گواہ بنا لیا کرو۔ اور کسی لکھنے والے کو یا گواہ کو تکلیف نہ پہنچائی جائے۔ اور اگر ایسا کرو گے تو یہ تمہارے لیے گناہ کی بات ہوگی۔ اور اللہ سے ڈرو، اللہ تم کو سکھاتا ہے اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے (2:282)۔ مالی لین دین میں ہمیشہ دو فریق ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں باہمی اتحاد قائم کرنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page