عورت معمارِ انسانیت
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ تعالی سے اُس کی رحمت اور نجات کے لیے درخواست کی ہے۔ اس کا جواب اللہ تعالی نے اس طرح دیا: اُن کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے سے ہو (3:195)۔ قرآن کی اس آیت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں عورت اور مرد دونوں برابر کا درجہ رکھتے ہیں۔ تم سب ایک دوسرے سے ہو (you are members, one of another) کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورت اور مرد دونوں کا معاملہ یکساں ہے۔ چنانچہ آیت میں آگے دونوں کی بابت یہ کہا گیا ہے کہ تم میں سے جن لوگوں نے ہجرت کی، جن کو وطن سے نکالا گیا، اور جن کو اللہ کے راستہ میں ستایا گیا اور جنہوں نے مخالف طاقتوں کا مقابلہ کیا تو ایسے لوگ خدا کی معافی اور جنت میں داخلہ کے مستحق قرار پائیں گے، خواہ وہ مرد ہوں یا عورت۔ اس بیان سے معلوم ہوا کہ اسلام میں عورت اور مرد دونوں کی اخلاقی ذمہ داریاں یکساں ہیں۔ اس لیے انعام اور جزا کے معاملہ میں دونوں کا حصہ یکساں ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں عورت اور مرد دونوں کے حقوق بھی یکساں ہیں اور ذمہ داریاں بھی یکساں۔ 6۔ ایک خاندان کے افراد قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اے لوگو، اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُس سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں ۔ اور اللہ سے ڈرو جس کے واسطہ سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور خبر دار رہو قرابت والوں سے ۔ بے شک اللہ تمہاری نگرانی کر رہا ہے (4:1)۔ قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا کہ عورت اور مرد دونوں کی اصل ایک ہے۔ دونوں ایک ہی ماں باپ کی نسل ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے بھائی اور بہن کی طرح ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader