عورت معمارِ انسانیت
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ تصور تمام اجتماعی اخلاقیات کا سر چشمہ ہے۔ جن لوگوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے وہ دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اتنا ہی ضروری سمجھیں گے جتنا کہ وہ اپنے خاندان کے افراد کے لیے اس کو ضروری سمجھتے ہیں۔ یہ تصور باہمی اتحاد کا سر چشمہ بھی ہے اور باہمی حسن اخلاق کا ایک طاقت ور محرک بھی۔ اس آیت میں خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا کے الفاظ آئے ہیں۔ یہاں مِنْهَا سے مراد من جنسها ہے۔ یعنی خدا نے جس مادہ سے آدم کو پیدا کیا، اسی مادہ سے حوا کو بھی پیدا کیا۔ اس تخلیق اشتراک کا تقاضا ہے کہ مرد اور عورت دونوں کامل اتحاد کے ساتھ رہیں۔ بائبل میں آیا ہے کہ خدا نے پہلے آدم کو پیدا کیا۔ پھر اس نے آدم کے جسم سے ایک پسلی نکال کر اس سے حوا (عورت) کو بنایا (پیدائش، باب، 23-2:22)۔ بائبل کے اس بیان کی بنیاد پر کچھ مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ حوا کو آدم کی پسلی سے پیدا کیا گیا ہے، مگر یہ واضح طور پر بائبل کا بیان ہے، نہ کہ قرآن کا بیان۔ قرآن کے مطابق، آدم اور حوا دونوں کو ایک ہی مشترک مادہ سے پیدا کیا گیا، نہ کہ ایک کو دوسرے کے کسی جسمانی حصہ سے۔ حدیث میں آیا ہے کہ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَع (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5186)۔ یہ حدیث تمام عورتوں کے بارے میں ہے، نہ کہ حوا کی تخلیق کے بارے میں۔ اس میں دراصل پسلی کی تمثیل سے یہ بتایا گیا ہے کہ عورتیں مقابلہً جذباتی (emotional) ہوتی ہیں۔ اس لیے مردوں کو چاہیے کہ وہ عورتوں سے معاملہ کرتے ہوئے ان کے اس مزاج کا لحاظ رکھیں۔ 7۔ تعدد ازواج قرآن میں ایک سے زیادہ شادی کی اجازت دی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں جو حکم آیا ہے اس کا ترجمہ یہ ہے: اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملہ میں انصاف نہ کر سکو گے تو عورتوں میں سے جو تم کو پسند ہوں ان سے دو دو، تین تین، چار چار تک نکاح کر لو۔ اور اگر تم کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader