تعدد ازواج
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
اندیشہ ہو کہ تم عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی نکاح کرو (4:3)۔ قرآن کی اس آیت میں مردوں کو تعدد ازواج (polygamy) کی اجازت دی گئی ہے۔ اجازت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اجازت اُس صورت حال کے لیے ہے جب کہ سماج میں یتیم لڑکوں اور یتیم لڑکیوں کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہو۔ گویا کہ یہ اجازت عام نہیں ہے بلکہ وہ اُس وقت کے لیے ہے جب کہ عورتیں سرپلس ہو گئی ہوں۔ یعنی کسی غیر معمولی حادثہ مثلاً جنگ کی وجہ سے سماج میں مردوں کی تعداد گھٹ جائے اور اُس کے مقابلہ میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہو جائے ۔ ایسی حالت میں وقتی سماجی مسئلہ کے حل کے طور پر بطور استثناء یہ اجازت دی گئی کہ مرد بقدِر ضرورت زیادہ شادیاں کرکے سماج میں معتدل ماحول قائم کریں۔ آیت میں’’دودو، تین تین اور چار چار‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اس میں ایک سے نکاح کا ذکر نہیں۔ اس اندازِ بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مرد کے لیے ایک عورت سے شادی کرنا معمول کی حالت ہے اور اس سے زیادہ تعداد میں شادی کرنا معمول کے خلاف حالت ہے۔ یہ معمول کے خلاف حالت صرف اس وقت قابل عمل ہوتی ہے جب کہ جنگ وغیرہ کی وجہ سے سماج میں عورت اور مرد کی تعداد کے درمیان غیر فطری طور پرنا برابری قائم ہوگئی ہو۔ 8۔ مرد اور عورت کے وراثی حقوق قرآن میں ارشاد ہوا ہے ماں باپ اور قرابت داروں کے ترکہ میں سے مردوں کا بھی حصہ ہے اور ماں باپ اور قرابت داروں کے ترکہ میں سے عورتوں کا بھی حصہ ہے، تھوڑا ہو یا زیادہ، ایک مقرّر کیا ہوا حصہ (4:7)۔ قرآن کے اس بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ ماں باپ اور دیگر قرابت والوں کے مالِ متروکہ میں سے مردوں یعنی بیٹوں کو خواہ وہ بچے ہوں یا جوان ، اُن کا حصہ ملے گا اور عورتوں یعنی بیٹیوں کو بھی بالغ ہوں یا نابالغ، ماں باپ وغیرہ اقارب کے ترکہ میں سے اُن کا حصہ دیا جائے گا اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader