عورت معمارِ انسانیت
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ حصے مقرر کیے ہوئے ہیں جن کا دینا ضروری ہے خواہ مال تھوڑا ہو یا زیادہ۔ قدیم زمانہ میں وراثت کے معاملہ میں بہت زیادہ نا انصافی ہوتی تھی ۔ یا تو وارثوں کا کوئی حصہ مقرر نہ تھا یا اس طرح مقرر کیا گیا تھا جس میں وارثوں کا حق پوری طرح ادا نہیں ہوتا تھا۔ قرآن میں وارثوں کے حصہ کو باقاعدہ طور پر منصفانہ انداز میں مقرر کیا گیا۔ 9۔ نا پسندیدہ چیز میں خیر قرآن میں ارشاد ہوا ہے ــــ اے ایمان والو، تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم عورتوں کو زبردستی اپنی میراث میں لے لو اور نہ اُن کو اس غرض سے روکو کہ تم نے جو کچھ اُن کو دیا ہے اس کا کچھ حصہ اُن سے لے لو مگر اس صورت میں کہ وہ کھلی ہوئی بے حیائی کریں۔ اور ان کے ساتھ اچھی طرح گزر بسر کرو۔ اگر وہ تم کو نا پسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں تمہارے لیے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو (4:19)۔ اس آیت میں خاندانی زندگی کا ایک اہم نکتہ بیان ہوا ہے۔ وہ یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان فطری طور پر فرق ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں کامیاب زندگی کا راز یہ ہے کہ لوگ آپس میں ایڈی جسٹمنٹ کر کے رہیں۔ ازدواجی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ مختلف اسباب سے ایک اور دوسرے کے درمیان شکایت اور اختلاف کی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ جب ایسا ہوتا ہے تو فریقین کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے کہ میں نے رفیق زندگی کے انتخاب میں غلطی کی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ انتخاب کی غلطی نہیں ہے بلکہ یہ سوچ کی غلطی ہے۔ شوہر اور بیوی دونوں کو یہ جاننا چاہیے کہ اس دنیا میں نہ کوئی معیاری شوہر ہے اور نہ کوئی معیاری بیوی۔ ایسی حالت میں کامیاب ازدواجی زندگی کا راز یہ ہے کہ دونوں ’’غیر معیاری‘‘ رفیق زندگی کے ساتھ ایڈجسٹ کر کے رہنا سیکھیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader