عورت معمارِ انسانیت
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
مزید یہ کہ یہ ایڈجسٹ منٹ کوئی برائی (evil) نہیں ہے۔ بلکہ اس میں ایک نہایت اہم حکمت چھپی ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ ناموافق حالات کے ساتھ ایڈجسٹ کر کے رہنا، تمام انسانی ترقیوں کا زینہ ہے۔ اسی سے مرد اور عورت کے درمیان اعلیٰ اخلاقیات کی پرورش ہوتی ہے۔ اسی سے مرد اور عورت کے درمیان اعلیٰ انسانی اوصاف کی نشوونما ہوتی ہے۔ اسی سے مرد و عورت کے اندر چھپے ہوئے امکانات (potentials) جاگتے ہیں ۔ یہ صورتِ حال کسی انسان کی عائد کی ہوئی نہیں، وہ خود خالقِ فطرت کی تخلیق کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اس معاملہ میں کسی مرد یا عورت کے لیے اس کے سوا کوئی انتخاب (choice) نہیں کہ وہ اْس کو قبول کرے۔ 10۔ ازدواجی رشتہ کا اُصول قرآن میں ارشاد ہوا ہے: تمہارے اوپر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، تمہاری بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا، تمہاری دودھ شریک بہنیں، تمہاری عورتوں کی مائیں اور اُن کی بیٹیاں جو تمہاری پرورش میں ہیں جو تمہاری اُن بیویوں سے ہوں جن سے تم نے صحبت کی ہے، لیکن اگر ابھی تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں اور تمہارے صُلبی بیٹوں کی بیویاں اور یہ کہ تم اکٹھا کرو دو بہنوں کو مگر جو پہلے ہو چکا۔ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے (4:23)۔ اسلام میں نکاح کے لیے کچھ رشتے حلال ہیں اور کچھ رشتے حرام۔ جن عورتوں سے رشتہ حرام ہے اُن کی چند قسمیں ہیں۔ جنسی تعلق کی وجہ سے حرام ہیں وہ سات ہیں، ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی، اُن میں سے کسی کے ساتھ کسی کو نکاح کرنا جائز نہیں۔ ماں کے حکم میں دادی، نانی اوپر تک کی سب داخل ہیں اور بہن میں عینی، علاتی (سوٹیلی، جن کے باپ ایک ہوں) اور اخیانی (سوٹیلی، باپ کی طرف سے ) سب داخل ہیں اور پھوپھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader