عورت معمارِ انسانیت
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنی کمائی کا۔ اور اللہ سے اُس کا فضل مانگو۔ بے شک اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے (32:4)۔ عورت اور مرد دونوں کے درمیان دنیوی اعتبار سے مختلف قسم کے فرق ہوتے ہیں۔ کسی کو جسمانی اور ذہنی خصوصیات میں کم حصہ ملا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کوئی اچھے حالات میں پیدا ہوتا ہے اور کوئی بُرے حالات میں ۔ کسی کے پاس بڑے بڑے ذرائع ہیں اور کسی کے پاس معمولی ذرائع۔ عورت ہو یا مرد جب کوئی کسی کو اپنے سے بڑھا ہوا دیکھتا ہے تو اس کے اندر دوسرے کے خلاف جلن کے جذبات ابھر آتے ہیں۔ اس سے اجتماعی زندگی میں حسد، عداوت اور باہمی کش مکش جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مگر ان چیزوں کے اعتبار سے اپنے یا دوسرے کو تولنا نادانی ہے۔ یہ سب دنیوی اہمیت کی چیزیں ہیں ۔ یہ دنیا میں ملی ہیں اور دنیا ہی میں رہ جانے والی ہیں ۔ اصل اہمیت عورت اور مرد دونوں کے لیے آخرت کی کامیابی کی ہے اور آخرت کی کامیابی میں ان چیزوں کا کچھ بھی دخل نہیں ۔ آخرت کی کامیابی کا انحصار اس عمل پر ہے جس کو عورت یا مرد ارادہ و اختیار سے اللہ کے لیے کرتے ہیں ۔ اس لیے بہترین عقلمندی یہ ہے کہ عورت اور مرد دونوں حسد سے اپنے آپ کو بچائیں اور اللہ سے توفیق کی دعا کرتے ہوئے اپنے آپ کو آخرت کے لیے عمل کرنے میں لگا دیں۔ 12_ قوامیت کا اصول قرآن میں ارشاد ہوا ہے: مرد عورتوں کے او پر قوّام ہیں ۔ اس بنا پر کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر بڑائی دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد نے اپنے مال خرچ کیے ۔ پس جو نیک عورتیں ہیں وہ فرماں برداری کرنے والی، پیٹھ پیچھے نگہبانی کرتی ہیں اللہ کی حفاظت سے۔ اور جن عورتوں سے تم کو نشوز کا اندیشہ ہو، اُن کو سمجھاؤ اور اُن کو ان کے بستروں میں تنہا چھوڑ دو اور اُن کو مارو۔ پس اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو اُن کے خلاف الزام کی راہ نہ تلاش کرو۔ بے شک اللہ سب سے اوپر ہے، بہت بڑا ہے (4:34)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader