عورت معمارِ انسانیت
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کے مطابق ، خاندانی نظام میں مرد کو عورت کے اوپر قوّام بنایا گیا ہے۔ یہ معروف معنوں میں کوئی فضیلت یا برتری کی بات نہیں ۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ خاندان کے معاملات میں مرد کو اصولی طور پر منتظم کی حیثیت حاصل ہے۔ قوّامیت دراصل انتظامیت (management) کا مسئلہ ہے، نہ کہ ایک کے اوپر دوسرے کی حاکمیت کا مسئلہ ۔ انتظامی ضرورت کے تحت اس قسم کا سٹل منٹ (settlement) ہر ادارہ میں کیا جاتا ہے۔ مثلاً کمپنی میں ایک افسر، حکومت میں ایک وزیر اعظم، میٹنگ میں ایک چیرمین، ادارہ میں ایک ڈائرکٹر، وغیرہ۔ اس قسم کا تقرر صرف انتظامی ضرورت کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ امتیازی درجہ بندی کے لیے۔ مذکورہ آیت میں وَاضْرِبُوهُنَّ (اُن کو مارو) کا لفظ مارنے(beating) کے معنیٰ میں نہیں ہے، بلکہ وہ تنبیہ (warning) کے معنیٰ میں ہے۔ اس سے مراد دراصل وہ اصلاحی عمل ہے جس کو خیر خواہانہ تنبیہ یا مشفقانہ تنبیہ کہا جا سکتا ہے۔ اس آیت میں ضرب کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شوہر کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی بیوی کو مارے۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کا نمونہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ملتا۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی بیویاں تھیں ۔ ان بیویوں نے کئی بار مسائل بھی پیدا کئے۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ان میں سے کسی کو نہیں مارا۔ 13۔ ثالثی کا اُصول خاندانی زندگی میں نزاعات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے حل کا ایک فطری اصول قرآن میں بتایا گیا ہے۔ قرآن کا یہ اصول اس آیت میں ملتا ہے: اور اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان تعلقات بگڑنے کا اندیشہ ہو تو ایک حکم مرد کے رشتہ داروں میں سے کھڑا کرو اور ایک حکم عورت کے رشتہ داروں میں سے کھڑا کرو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader