عورت معمارِ انسانیت
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقَت کر دے گا۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا خبردار ہے (35: 4)۔ حکم (ثالثی) کا یہ اُصول نزاعات کے حل کے لیے بے حد مفید ہے۔ دو آدمیوں میں جب باہمی اختلاف ہو تو دونوں کا ذہن ایک دوسرے کے بارے میں متاثر ذہن بن جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں خالص واقعاتی انداز سے سوچ نہیں پاتے۔ ایسی حالت میں معاملہ کو طے کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ دونوں اپنے سوا کسی دوسرے کو حکم (arbiter) بنانے پر راضی ہو جائیں۔ دوسرا شخص معاملہ سے ذاتی طور پر وابستہ نہ ہونے کی وجہ سے غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے گا اور ایسے فیصلہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائے گا جو حقیقتِ واقعہ کے مطابق ہو۔ 14- یکساں انعام قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور جو شخص کوئی نیک کام کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ اور اُن پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا (124: 4)۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عمل صالح کے انعام میں اللہ تعالیٰ کے یہاں عورت اور مرد کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ خدا کا ایک ہی قانونِ جزاء دونوں صنفوں کے لیے ہے۔ جو کوئی بھی سچے ایمان بالله کا ثبوت دے اور حقیقی معنوں میں نیک عمل کرے وہ یکساں طور پر ابدی جنت کا مستحق قرار پائے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ 15۔ آدم اور حوا قرآن میں ابتدائی انسان (آدم اور حوا) کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اور اے آدم، اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور کھاؤ جہاں سے چاہو۔ مگر اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ تم نقصان اُٹھانے والوں میں سے ہو جاؤ گے ۔ پھر شیطان نے دونوں کو بہکایا تا کہ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader