عورت معمارِ انسانیت
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
کھول دے دونوں کی وہ شرم کی جگہیں جو ان سے چھپائی گئی تھیں۔ اُس نے دونوں سے کہا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت سے صرف اس لیے روکا ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتہ نہ بن جاؤ یا تم دونوں کو ہمیشہ کی زندگی حاصل ہوجائے۔ اور اُس نے قسم کھا کر کہا کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔ پس مائل کر لیا اُن دونوں کو فریب سے۔ پھر جب دونوں نے درخت کا پھل چکھا تو دونوں کی شرم گاہیں اُن پر کھل گئیں اور دونوں اپنے کو باغ کے پتوں سے ڈھانکنے لگے۔ اور ان کے رب نے اُن کو پکارا کہ کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا ہوا دشمن ہے۔ اُن دونوں نے کہا، اے ہمارے رب، ہم دونوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہم دونوں کو معاف نہ کرے اور ہم دونوں پر رحم نہ کرے تو ہم دونوں گھاٹا اُٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے (23-7:19)۔ قرآن کے اس بیان میں بار بار تثنیہ کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ اُس کا ایک خاص سبب ہے۔ اصل یہ ہے کہ بائبل میں یہ کہا گیا ہے کہ جنت میں جب آدم اور حوا کو بسایا گیا تو حوا نے آدم کو بہکایا اور حوا کے کہنے سے آدم نے ممنوعہ درخت کے معاملہ میں خدا کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ قرآن کے مذکورہ بیان میں تثنیہ کے صیغے اسی کی تردید کے لیے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بہکانے والا دراصل شیطان تھا، نہ کہ حوا۔ شیطان نے بیک وقت دونوں کو بہکایا اور دونوں ہی مشترک طور پر اُس کے بہکاوے میں آگئے۔ قرآن کے اس بیان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورت اور مرد دونوں کا معاملہ بالکل یکساں ہے۔ دونوں ہی نے مشترک طور پر غلطی کی اور پھر دونوں ہی نے مشترک طور پر توبہ کر کے دوبارہ اللہ کی رحمت حاصل کی۔ 16۔ مومن اور مومنات قرآن میں مرد اور عورت دونوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader