Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت معمارِ انسانیت

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا۔ بے شک اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔ مومن مردوں اور مومن عورتوں سے اللہ کا وعدہ ہے باغوں کا کہ ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور وعدہ ہے، ستھرے مکانوں کا، ہمیشگی کے باغوں میں، اور اللہ کی رضا مندی جو سب سے بڑھ کر ہے۔ یہی بڑی کامیابی ہے (72-9:71)۔ قرآن کے اس بیان میں مومن مرد اور مومن عورت دونوں کا ذکر یکساں حیثیت سے کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انفرادی حیثیت میں بھی دونوں سے اسلام کا تقاضا کہاں ہے۔ اسی طرح اجتماعی حیثیت سے بھی دونوں سے یکساں عمل مطلوب ہے۔ اس اجتماعی پہلو کا اشارہ قرآن کے ان الفاظ میں ملتا ہے کہ: بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْض (9:71)۔ اسی طرح قرآن کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت اور مرد دونوں کا معاملہ آخرت کے اعتبار سے بھی یکساں ہے۔ جو عمل ایک مرد کو جنت میں داخلہ کا استحقاق دے گا، اُسی عمل سے عورت بھی جنت میں داخلہ کی مستحق قرار پائے گی۔ 17۔ نئی نسل کی تیاری قرآن میں حضرت ابراہیم کی ایک دعا نقل کی گئی ہے۔ یہ دعا انہوں نے اس وقت کی تھی جب کہ انہوں نے عرب کے صحرا میں اپنی زوجہ ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو لا کر بسا دیا تھا۔ وہ دعا یہ تھی : اور جب ابراہیم نے کہا: اے میرے رب، اس شہر کو امن والا بنا اور مجھ کو اور میری اولاد کو اس سے دور رکھ کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔ اے میرے رب، ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ پس جس نے میری پیروی کی وہ میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو تو بخشنے والا مہربان ہے۔ اے ہمارے رب، میں نے اپنی اولاد کو ایک بے کھیتی کی وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس بسایا ہے۔ اے ہمارے رب، تا کہ وہ نماز قائم کریں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page