Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت معمارِ انسانیت

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

پس تو لوگوں کے دل اُن کی طرف مائل کردے اور اُن کو پھلوں کی روزی عطا فرما۔ تاکہ وہ شکر کریں (35-14:37)۔ یہ دعا ایک عظیم تاریخ کی یاد دلاتی ہے۔ یہ عظیم تاریخ ایک خاتون کے ذریعہ بنائی گئی جن کا نام ہاجرہ تھا۔ حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک ہر طرف غالب آ گیا تھا۔ انسانی سماج پوری طرح مشرکانہ کلچر کے تابع ہو چکا تھا۔ ہر بچہ جو اس سماج میں پیدا ہوتا وہ مشرکانہ افکار کے تحت کنڈیشنڈ (conditioned) ہو جاتا تھا۔ اُس وقت اللہ کے حکم کے تحت حضرت ابراہیم نے یہ کیا کہ اپنی زوجہ اور اپنے چھوٹے بیٹے کو مشرکانہ آبادیوں سے دور ایک ویرانہ میں لے جا کر بسا دیا۔ یہاں فطرت کا سادہ ماحول تھا۔ یہاں مشرکانہ تمدن کے تحت کنڈیشنگ (conditioning) کا امکان موجود نہ تھا۔ اس بے آمیز ماحول میں ایک نئی نسل بنی جو مکمل طور پر اپنی خدا داد فطرت پر قائم تھی۔ یہ وہی نسل ہے جو بنو اسماعیل کے نام سے تاریخ میں یاد کی جاتی ہے۔ اسی نسل میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے اور اسی نسل سے آپ کو وہ قیمتی افراد ملے جن کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے توحید کی پیغمبرانہ دعوت کو فکری مرحلہ سے بلند کر کے ایک مکمل انقلاب تک پہنچایا۔ ہاجرہ کا یہ واقعہ تمام عورتوں کے لیے ایک تاریخی نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ نمونہ یہ ہے کہ ہر عورت کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو تعلیم و تربیت کے ذریعہ بہتر انسان بنائے۔ وہ ہر ایک نسل کے بعد دوسری نسل کی تیاری کا کام کرے ۔ وہ انسانی سماج کو مسلسل طور پر بہتر انسان فراہم کرتی رہے۔ 18۔ حیات طیبہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: جو شخص کوئی نیک کام کرے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page