حیات طیبہ
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ مومن ہو تو ہم اس کو زندگی دیں گے، ایک اچھی زندگی ۔ اور جو کچھ وہ کرتے رہے اس کا ہم اُن کو بہترین بدلہ دیں گے (16:97)۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی نظر میں عورت اور مرد دونوں کی حیثیت بالکل یکساں ہے۔ دونوں کے لیے عمل کا ایک ہی معیار ہے۔ دونوں کے لیے دنیا میں خدا کی رحمت اور آخرت میں خدا کے عذاب سے نجات کا فیصلہ ایک ہی اصول کے تحت ہوگا۔ دونوں کے بارے میں خدا کا قانون عمل کی بنیاد پر ہے، نہ کہ جنس کی بنیاد پر۔ 19۔ اشاعتِ فاحشہ نہیں اسلام کے مدنی دور میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ عائشہ بنت ابی بكر پر ایک جھوٹا اخلاقی الزام لگایا گیا۔ اس الزام کا کوئی ثبوت موجود نہ تھا۔ مگر مدینہ کے بعض افراد نے جب اس کا تذکرہ کیا تو لوگ بے تکلف اس کا چرچا کرنے لگے۔ جو سنتا وہ اُس کو دوسرے سے بیان کرتا۔ اس پر قرآن میں مختلف احکام اُترے۔ ان میں سے ایک حکم یہ تھا: جب تم لوگوں نے اس کو سُنا تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے ایک دوسرے کی بابت نیک گمان کیوں نہ کیا اور کیوں نہ کہا کہ یہ کھلا ہوا بہتان ہے۔ یہ لوگ اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے۔ پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ اور اگر تم لوگوں پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور اُمُ اس کی رحمت نہ ہوتی تو جن باتوں میں تم پڑ گئے تھے اس کے باعث تم پر کوئی بڑی آفت آجاتی۔ جب کہ تم اُس کو اپنی زبانوں سے نقل کر رہے تھے ۔ اور اپنے منھ سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں کوئی علم نہ تھا۔ اور تم اس کو ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے۔ حالاں کہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بھاری بات ہے۔ اور جب تم نے اس کو سنا تو یوں کیوں نہ کہا کہ ہم کو زیبانہیں کہ ہم ایسی بات منھ سے نکالیں۔ معاذ اللہ، یہ بہت بڑا بہتان ہے (16: 12-24)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader