Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت معمارِ انسانیت

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کے اس بیان سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اجتماعی زندگی میں جب بھی ایسا ہو کہ کسی مرد یا عورت کے بارے میں کوئی غیر اخلاقی بات کہی جائے تو ہر گز ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ لوگ اُس کو صرف سن کر مان لیں اور پھر اُس کا تذکرہ کرنے لگیں۔ سنی ہوئی بات کا بلا ثبوت تذکرہ کرنا خود تذکرہ کرنے والے کو خدا کی نظر میں مجرم ثابت کرتا ہے۔ اس کے بجائے سننے والے کو یہ کرنا چاہیے کہ جب کہنے والے نے اپنی بات کے ساتھ اس کا پختہ ثبوت نہ دیا ہو تو صرف سن کر یہ کہہ دیا جائے کہ یہ جھوٹی بات ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کے بارے میں اچھی بات کہے تو اس کے لیے اُسے کوئی ثبوت یا گواہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ مگر جب وہ کسی کے بارے میں ایک اخلاقی برائی کا ذکر کرے تو اس کو لازماً چار گواہ پیش کرنا ہوگا، ایسے چار گواہ جنہوں نے براہِ راست طور پر مذکورہ اخلاقی برائی کو خود دیکھا اور سنا ہو۔ جو لوگ کسی کے بارے میں اس قسم کی اخلاقی برائی کا چرچا کریں اور اؔس کے ثبوت میں چار چشم دید گواہ پیش نہ کر سکیں تو وہ سخت مجرم قرار پائیں گے اور اسلامی ریاست میں اُنہیں کوڑے مارنے کی سزا دی جائے گی۔ 20۔ پردہ کا قانون قرآن میں خواتین کے لیے پردہ کا قانون بتاتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اور مومن عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں۔ مگر جو اس میں سے ظاہر ہو جائے اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہیں۔ اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ پر یا اپنے شوہر کے باپ پر یا اپنے بیٹوں پر یا اپنے شوہر کے بیٹوں پر یا اپنے بھائیوں پر یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں پر یا اپنی بہنوں کے بیٹوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنے مملوک پر یا زیر دست مردوں پر جو کچھ غرض نہیں رکھتے۔ یا ایسے لڑکوں پر جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے ابھی ناواقف ہوں۔ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page