عورت معمارِ انسانیت
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے پاؤں زور سے نہ ماریں کہ اُن کی مخفی زینت معلوم ہو جائے اور اے ایمان والو، تم سب مل کر اللہ کی طرف رجوع کرو تا کہ تم فلاح پاؤ (24:31)۔ قرآن کی ان آیتوں میں خواتین کے پردہ کا وہ حکم بتایا گیا ہے، جس کو ستر کہا جاتا ہے۔ یعنی اپنے جسم کے کس حصہ کا چھپانا ضروری ہے اور کس حصہ کو کھولنے کی اجازت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت کا پورا بدن ڈھیلے اور سادہ کپڑوں سے ملبوس ہونا چاہیے۔ تاہم اس کلیہ میں بر بنائے ضرورت ایک استثناء ہے۔ یہ استثناء آیت کے لفظ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا (مگر جو اس میں سے ظاہر ہو جائے) سے نکلتا ہے۔ سورہ النور کی اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مولانا شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں: ”حدیث و آثار سے ثابت ہوتا ہے کہ چہرہ اور کفین (ہتھلیاں) إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا میں داخل ہیں۔ کیوں کہ بہت سی ضروریات دینی و دنیوی اُن کے کھلا رکھنے پر مجبور کرتی ہیں۔ اگر ان کے چھپانے کا مطلقا حکم دیا جائے تو عورتوں کے لیے کاروبار میں سخت تنگی اور دشواری پیش آئے گی۔ آگے فقہاء نے قدمین کو بھی ان ہی اعضاء پر قیاس کیا ہے اور جب یہ اعضاء مستثنیٰ ہوئے تو اُن کے متعلقات مثلاً انگوٹھی، چھلا یا مہندی، کاجل، وغیرہ کو بھی استثناء میں داخل ماننا پڑے گا۔ لیکن واضح رہے کہ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا سے صرف عورتوں کو بضرورت اُن کے کھلا رکھنے کی اجازت ہوئی“ (تفسیر القرآن العظیم، صفحہ 459-458)۔ 21۔ متقیوں کی امامت قرآن میں اہل جنت کی کچھ صفات بتائی گئی ہیں۔ یعنی وہ صفتیں جن کی بنا پر کوئی شخص جنت میں داخلہ کا مستحق قرار پائے گا۔ اہل جنت کی ان صفتوں میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ اپنے خاندان والوں کے لیے خدا سے یہ دعا کرتے ہیں: اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہم کو ہماری بیوی اور ہماری اولاد کی طرف سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader