عورت معمارِ انسانیت
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
صدقہ، روزہ، عفت، ذکر اللہ۔ ان دس الفاظ میں اسلامی عقیدہ اور اسلامی کردار کے تمام پہلو سمٹ آئے ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو اللہ کے یہاں مغفرت اور انعام کا امیدوار ہو اس کو ایسا بننا چاہیے کہ وہ ہر حال میں اللہ کے حکم کے آگے جھکنے والا ہو۔ وہ اللہ پر یقین رکھنے والا ہو ۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اللہ کے لیے یکسو ہو جائے۔ اس کی زندگی قول اور فعل کے تضاد سے خالی ہو۔ وہ ہر حال میں سچائی پر قائم رہنے والا ہو۔ اللہ کی بڑائی کے احساس نے اسے متواضع بنا دیا ہو۔ وہ دوسروں کی ضرورت پوری کرنے کو بھی اپنی ذمہ داری شمار کرتا ہو۔ وہ روزہ دار ہو جو نفس کو کنٹرول کرنے کی تربیت ہے۔ وہ شہوانی خواہشات کے مقابلہ میں عفیف اور پاک دامن ہو۔ اس کے صبح و شام اللہ کی یاد میں بسر ہونے لگیں۔ یہ اوصاف جس طرح مردوں سے مطلوب ہیں اسی طرح وہ عورتوں سے بھی مطلوب ہیں۔ ان اوصاف کے اظہار کا دائرہ بعض اعتبار سے دونوں کے درمیان مختلف ہے۔ مگر جہاں تک خود اوصاف کا تعلق ہے وہ دونوں کے لیے یکساں ہے۔ کوئی عورت ہو یا کوئی مرد وہ اسی وقت خدا کے یہاں قابلِ قبول ٹھہرے گا جب کہ وہ ان دس صفتوں سے متصف ہو کر خدا کے یہاں پہنچے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں ان اوصاف پر قائم رہنے کی ضمانت صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ ہر عورت اور ہر مرد اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو اپنے لیے لازم کرلے۔ جب بھی اپنی خواہش اور خدا کے حکم کے درمیان انتخاب کا سوال ہو تو وہ دل کی پوری آمادگی کے ساتھ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو لے لے اور ذاتی خواہش کو نظر انداز کر دے۔ 28۔ زندگی ایک امانت ہے قرآن کے مطابق ، زندگی ایک امانت ہے، مرد کے لیے بھی اور عورت کے لیے بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader