Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

زندگی ایک امانت ہے

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ دنیا میں ہر ایک کا یہی امتحان ہے کہ وہ اس امانت الہی میں پورا اترے۔ اسی پر ہر مرد اور ہر عورت کے ابدی مستقبل کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کا بیان یہ ہے : ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈر گئے، اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بے شک وہ ظالم اور جاہل تھا۔ تا کہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے۔ اور مومن مردوں اور مومن عورتوں پر توجہ فرمائے۔ اور اللہ بخشنے والا، مہربان ہے (33:72-73)۔ امانت سے مراد اختیار ہے۔ اختیار کو امانت اس لیے فرمایا کہ وہ اللہ کی ایک چیز ہے جس کو اس نے عارضی مدت کے لیے انسان کو بطور آزمائش دیا ہے تا کہ انسان خود اپنے ارادہ سے خدا کا تابعدار بنے۔ امانت، دوسرے لفظوں میں، اپنے اوپر خدا کا قائم مقام بننا ہے۔ اپنے آپ پر وہ کرنا ہے جو خدا ستاروں اور سیاروں پر کر رہا ہے۔ یعنی اپنے اختیار سے اپنے آپ کو خدا کے کنٹرول میں دے دینا۔ اس کائنات میں صرف اللہ حاکم ہے اور تمام چیزیں اس کی محکوم ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوئی کہ وہ ایک ایسی آزاد مخلوق پیدا کرے جو کسی جبر کے بغیر خود اپنے اختیار سے وہی کرے جو خدا اس سے کروانا چاہتا ہے۔ یہ اختیاری اطاعت بڑی نازک آزمائش تھی۔ آسمان اور زمین اور پہاڑ بھی اس کا متحمل نہیں سکتے۔ تاہم انسان نے شدید اندیشہ کے باوجود اس کو قبول کر لیا۔ اب انسان موجودہ دنیا میں خدا کی ایک امانت کا امین ہے۔ اس کو اپنے اوپر وہی کرنا ہے جو خدا دوسری چیزوں پر کر رہا ہے۔ انسان کو اپنے آپ پر خدا کا حکم چلانا ہے۔ انسان حالت امتحان میں ہے اور موجودہ دنیا اس کے لیے وسیع امتحان گاہ۔ یہ امانت ایک بے حد نازک ذمہ داری ہے۔ کیوں کہ اسی کی وجہ سے جزا و سزا کا مسئلہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page