عورت معمارِ انسانیت
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
پیدا ہوتا ہے۔ دوسری مخلوقات مجبور و مقہور ہیں۔ اس لیے اُن کے واسطے جزا اور سزا کا مسئلہ نہیں۔ انسان آزاد ہے۔ اس لیے وہ جزا و سزا کا مستحق بنتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کی تخلیق کے آغاز کے وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً (30:2) یعنی، میں زمین میں ایک جانشین بنانے والا ہوں۔ اس آیت کی تشریح کچھ لوگوں نے یہ کی ہے کہ: خَلِیْفَةً یَّخْلُفُنِیْ فِی تَنْفِیْذِ اَحْکَامِیْ فِیْھَا (تفسیر الجلالین، جلد 1، صفحہ 8)۔ یعنی، ایک ایسا خلیفہ جو زمین میں میرے احکام نافذ کرے گا۔ مگر مذکورہ آیت کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس کی زیادہ صحیح تفسیر یہ نظر آتی ہے کہ: خلیفۃ یخلفنی فی تنفيذ احکامی علی نفسہ۔ یعنی وہ خدا کے احکام کو خدا کی طرف سے اپنے آپ پر نافذ کرے گا۔ گویا یہ تنفیذِ احکام کا عمل خود انسان کی اپنی ذات ہے، نہ کہ خارجی معنوں میں زمین۔ اس خدائی منصوبہ کا تعلق عورت اور مرد دونوں سے ہے۔ اس کے نتیجہ میں عملاً مردوں اور عورتوں کی تین تقسیم واقع ہوگی۔ ایک وہ لوگ جو جانچ میں سچے مومن ٹھہریں۔ دوسرے وہ لوگ جو اس جانچ میں کھلے طور پر نا کام ہو جائیں۔ تیسرا گروہ منافقین کا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو زبان سے ایمان کا اقرار کریں مگر وہ اپنی عملی زندگی کو خدائی حکم کے بجائے دنیوی مفادات کے تابع بنائے رہیں گے۔ 29۔ ماں کا کردار قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور ہم نے انسان کو حکم دیا کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرے۔ اس کی ماں نے تکلیف کے ساتھ اس کو پیٹ میں رکھا اور تکلیف کے ساتھ اُس کو جنا۔ اور حمل میں رہنا اس کا اور اُس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے میں ہوا۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی پختگی کو پہنچا اور چالیس برس کو پہنچ گیا تو وہ کہنے لگا کہ اے میرے رب، مجھے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader