Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت معمارِ انسانیت

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

توفیق دے کہ میں تیرے احسان کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر کیا اور میرے ماں باپ پر کیا اور یہ کہ میں وہ نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو۔ اور میری اولاد میں بھی مجھ کو نیک اولاد دے۔ میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ یہ لوگ ہیں جن کے اچھے اعمال کو ہم قبول کریں گے اور اُن کی برائیوں سے درگزر کریں گے، وہ اہلِ جنت میں سے ہوں گے، سچا وعدہ جو اُن سے کیا جاتا تھا (46:15-16)۔ انسانی نسل میں عورت کا کردار ماں کی حیثیت سے بے حد بنیادی ہے۔ ماں کی حیثیت گویا فعلِ انسانی کے لیے شیرازہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ کتاب زندگی کے تمام اوراق ماں کے وجود سے جڑتے ہیں۔ ماں کا وجود نہ ہو تو زندگی کے تمام اوراق منتشر ہو جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ماں کی حیثیت سے عورت کے حقوق کی اسلام میں بے حد تاکید کی گئی ہے۔ ماں کی حیثیت سے عورت کے حقوق کی ادائیگی تمام انسانی اخلاقیات کا سر چشمہ ہے۔ عورت کی یہ حیثیت جس سماج میں محفوظ ہو وہ اعلیٰ انسانی سماج ہوگا۔ اور جس سماج میں عورت کی یہ حیثیت منتشر ہو جائے وہ سماج کبھی اعلیٰ انسانی سماج کی حیثیت سے ترقی نہیں کر سکتا۔ یہ دراصل عورت کا کردار ہے جو کسی انسانی سماج کو جنگل کا سماج بنانے سے روکتا ہے۔ 30۔ اجتماعی اخلاقیات قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اے ایمان والو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں ۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں ۔ اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو۔ ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام لگنا برا ہے۔ اور جو باز نہ آئیں تو وہی لوگ ظالم ہیں (49:11)۔ ہر عورت اور مرد کے اندر پیدائشی طور پر بڑا بننے کا جذ بہ چھپا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کو دوسرے کی کوئی بات مل جائے تو وہ اس کو خوب نمایاں کرتا ہے تا کہ اس طرح اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page