عورت معمارِ انسانیت
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
کو بڑا اور دوسرے کو چھوٹا ثابت کرے۔ وہ دوسرے کا مذاق اُڑاتا ہے، وہ دوسرے پر عیب لگاتا ہے، وہ دوسرے کو برے نام سے یاد کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے اپنی بڑائی کے جذبہ کی تسکین حاصل کرے۔ مگر اچھا اور برا ہونے کا معیار وہ نہیں ہے جو کوئی عورت یا مرد بطور خود مقرر کرلے۔ اچھا دراصل وہ ہے جو خدا کی نظر میں اچھا ہو اور برا وہ ہے جو خدا کی نظر میں بُرا ٹھہرے۔ اگر ہر ایک کے اندر فی الواقع اس کا احساس پیدا ہو جائے تو اس سے بڑائی کا جذبہ چھن جائے گا۔ دوسرے کا مذاق اُڑانا، دوسرے کو طعنہ دینا، دوسرے پر عیب لگانا، دوسرے کو برے لقب سے یاد کرنا، سب اس کو بے معنی معلوم ہونے لگیں گے۔ کیوں کہ وہ جانے گا کہ لوگوں کے درجہ و مرتبہ کا اصل فیصلہ خدا کے یہاں ہونے والا ہے۔ پھر اگر آج میں کسی کو حقیر سمجھوں اور آخرت کی حقیقی دنیا میں وہ باعزت قرار پائے تو میرا اس کو حقیر سمجھنا کس قدر بے معنی ہوگا۔ 31۔ باعزت قوم قرآن میں ارشاد ہوا ہے اے لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔ اور تم کو قوموں اور خاندانوں میں بانٹ دیا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے، بے شک اللہ جاننے والا، خبر رکھنے والا ہے (49:11)۔ عورت اور مرد کے درمیان مختلف قسم کے فرق ہوتے ہیں۔ کوئی سفید ہے اور کوئی کالا۔ کوئی ایک نسل سے ہے اور کوئی دوسری نسل سے۔ کوئی ایک جغرافیہ سے تعلق رکھتا ہے اور کوئی دوسرے جغرافیہ سے۔ یہ تمام فرق صرف تعارف کے لیے ہیں، نہ کہ امتیاز کے لیے۔ اکثر خرابیوں کا سبب یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس قسم کے فرق کی بنا پر ایک دوسرے کے درمیان فرق کرنے لگتے ہیں۔ اس سے وہ تفریق اور تعصب وجود میں آتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader