Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت معمارِ انسانیت

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

سے وہ کچھ اور نہیں کر سکتا تھا۔ کسی رشتہ دار کی طرف سے اس قسم کا رویہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے دشمنی کا رویہ ہے۔ رشتہ داروں کو خیر میں تعاون کے لیے کام آنا چاہیے، نہ کہ ایک دوسرے کو برائی کی طرف لے جانے کے لیے۔ 35- تنگی کے بعد وسعت قرآن میں شوہر اور بیوی کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے چاہیے کہ وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس کی آمدنی کم ہو اس کو چاہیے کہ اللہ نے جتنا اس کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرے۔ اللہ کسی پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اتنا ہی جتنا اس کو دیا ہے، اللہ سختی کے بعد جلد ہی آسانی پیدا کرے گا (65:7)۔ خاندانی زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کم آمدنی کی وجہ سے شوہر اور بیوی کے درمیان جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ گھر کا سکون درہم برہم ہو جاتا ہے۔ یہ مسئلہ صرف اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ لوگ معاملہ کو صرف حال (present) کے اعتبار سے دیکھتے ہیں، وہ معاملہ کو مستقبل (future) کے اعتبار سے نہیں دیکھ پاتے۔ یہی ذہن تمام جھگڑے کی جڑ ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ حال سے اوپر اٹھ کر سوچیں۔ وہ مستقبل کے امکانات پر اعتماد کریں۔ یہ طریق فکر عورت اور مرد کے درمیان حوصلہ پیدا کرنے والا ہے۔ وہ مسئلہ کو وقتی مسئلہ قرار دے کر اس کی سنگینی کو ختم کر دیتا ہے۔ 36۔ دینی تربیت قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اے ایمان والو، اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے، اس پر تند خو اور زبردست فرشتے مقرر ہیں، اللہ ان کو جو حکم دے اس میں وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے، اور وہ وہی کرتے ہیں جس کا ان کو حکم ملتا ہے (66:6)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page