Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت معمارِ انسانیت

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

عام طور پر لوگوں کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ وہ مادی نقصان اور فائدہ کے اعتبار سے سوچتے ہیں ۔ وہ اپنے قریبی مسائل میں الجھے رہتے ہیں۔ یہ ذہن ہلاکت خیز حد تک غلط ہے۔ صحیح یہ ہے کہ عورت اور مرد دونوں آخرت کے نقصان اور فائدہ کے اعتبار سے سوچیں۔ وہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل خاندان کو آخرت کے عذاب سے بچانے کی فکر کریں ۔ ہر ایک کو سب سے زیادہ شوق اخروی جنت کا ہو، نہ کہ دنیوی فائدہ کے حصول کا۔ 37_ انجام کا مدار عمل پر قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اللہ منکروں کے لیے مثال بیان کرتا ہے نوح کی بیوی کی اور لوط کی بیوی کی، دونوں ہمارے بندوں میں سے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں ۔ پھر انہوں نے اُن کے ساتھ خیانت کی تو وہ دونوں اللہ کے مقابلہ میں ان کے کچھ کام نہ آسکے اور دونوں کو کہہ دیا گیا کہ آگ میں داخل ہو جاؤ داخل ہونے والوں کے ساتھ۔ اور اللہ ایمان والوں کے لیے مثال بیان کرتا ہے فرعون کی بیوی کی، جب کہ اُس نے کہا کہ اے میرے رب، میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنادے اور مجھ کو فرعون اور اس کے عمل سے بچالے اور مجھ کو ظالم قوم سے نجات دے (66:10-11)۔ قرآن کی ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں کسی کو جو مقام ملے گا وہ ذاتی عمل کی بنیاد پر ملے گا، نہ کہ رشتہ داری کی بنیاد پر۔ کوئی مرد یا عورت کس نسل سے ہے یا رشتہ کے اعتبار سے اُس کا تعلق کس سے ہے، یہ صرف دنیوی تعلق کی بات ہے۔ آخرت میں خدا کے انعام اور سزا کا تعیین ان تعلقات کی بنیاد پر نہیں ہو گا بلکہ اس بنیاد پر ہوگا کہ کسی مرد یا عورت نے خود کیا کیا۔ 38_ احوالِ قیامت قرآن میں ارشاد ہوا ہے: جس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے، اور اپنی ماں سے اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page