عورت معمارِ انسانیت
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے باپ سے، اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے۔ ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایسا فکر لگا ہوگا جو اس کو کسی اور طرف متوجہ نہ ہونے دے گا۔ کچھ چہرے اس دن روشن ہوں گے، ہنستے ہوئے، خوشی کرتے ہوئے ۔ اور کچھ چہروں پر اس دن خاک اڑ رہی ہوگی، ان پر سیاہی چھائی ہوئی ہوگی۔ یہی لوگ منکر ہیں، ڈھیٹ ہیں (80:34-42)۔ قرآن کی ان آیتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ موت کے بعد قیامت کا جو دن آنے والا ہے وہ کتنا زیادہ ہولناک ہوگا۔ اُس دن دنیا کی محبتیں اور دنیا کی دشمنیاں سب ختم ہو جائیں گی۔ ہر ایک کو صرف اپنی فکر ہوگی۔ ہر مرد اور عورت کا یہ حال ہوگا کہ وہ سارے دنیوی تعلقات کو بھول کر صرف خدا کی طرف دیکھ رہا ہوگا۔ وہ صرف ایک خدا سے رحمت کا امیدوار بن جائے گا۔ ہر مرد اور عورت کو چاہیے کہ وہ زندگی کی اس نوعیت کو سمجھے۔ جب کوئی ناموافق صورت حال اُس کے سامنے آئے تو وہ اس کا سامنا اس احساس کے ساتھ کرے کہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔ خدا مجھ کو ان حالات میں ڈال کر میرا امتحان لینا چاہتا ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو کسی عورت یا مرد کو موجودہ دنیا میں اعتدال پر قائم رکھ سکتی ہے۔ یہی سوچ اس بات کی ضامن ہے کہ اُس کی سوچ صحیح سوچ ہو اور اُس کا عمل صحیح عمل۔ 39_ نفس مطمئنہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قیامت میں اللہ تعالیٰ جنتی مردوں اور جنتی عورتوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمائے گا: اے نفس مطمئن، چل اپنے رب کی طرف۔ تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی، پھر شامل ہو میرے بندوں میں اور داخل ہو میری جنت میں (89:27-30)۔ اس آیت میں نفس مطمئن ایک عام لفظ ہے۔ اس سے مرد اور عورت دونوں مراد ہیں۔ نفس مطمئن کا مطلب ہے، مطمئن روح یا نفسیاتی پیچیدگیوں سے پاک روح (complex-free soul)۔ جنت میں داخلہ کے مستحق صرف وہ عورت اور مرد قرار پائیں گے جو دنیا میں اس طرح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader