Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

موزونیت ہے۔ پسلی کی ہڈی کو اگر آپریشن کر کے سیدھا کر دیا جائے تو وہ جسم انسانی میں اپنی کارکردگی کو صحیح طور پر ادا نہ کر سکے گی ۔ ایک اور روایت میں یہ لفظ ہے: الْمَرْأَةُ كَالضِّلْعِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5184) ۔ یعنی عورت پسلی کی ہڈی کی مانند ہے ۔ ایک اور روایت میں ہے: إِنَّمَا مَثَلُ الْمَرْأَةِ كَالضِّلْعِ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 4180) ۔ یعنی، بے شک عورت کی مثال پسلی کی ہڈی کی طرح ہے۔ یہ تمثیل کی زبان ہے۔ اور یہ تمثیل دراصل عورت کی ایک صفت کو بتانے کے لیے ہے۔ اور وہ یہ کہ عورت نسبتاً جذباتی (emotional) ہوتی ہے۔ مرد کے مقابلہ میں عورت کو کسی قدر جذباتی اس لیے بنایا گیا ہے کہ چیزوں سے اس کو ایک جذباتی تعلق ہو جائے اور اس بنا پر وہ اپنی مخصوص ذمہ داریوں کو بہتر طور پر ادا کر سکے۔ اسی مخصوص مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ عورت کو اپنے بچوں کے ساتھ انتہائی جذباتی تعلق ہوتا ہے۔ اگر یہ جذباتی تعلق نہ ہو تو عورت اپنے بچہ کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہ کرے۔ 13۔ فطرتِ انسانی کا تقاضا حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے لیے دنیا کی چیزوں میں سے عورتیں اور خوشبو محبوب بنائی گئی ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے : حُبِّبَ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا النِّسَاءُ وَالطِّيبُ، وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ (سنن النسائی، حدیث نمبر 3939) ۔ اس حدیث میں ضمیر متکلم کے اسلوب میں دراصل انسانی فطرت کو بتایا گیا ہے۔ انسان کے اندر فطری طور پر یہ مزاج ہے کہ وہ اپنے زوج (جوڑے) کی طرف خصوصی میلان رکھتا ہے۔ وہ اپنے جوڑے کو اپنا تکمیلی حصہ سمجھتا ہے۔ اس کا پورا وجود محسوس کرتا ہے کہ اس جوڑے کے بغیر اُس کی ہستی مکمل نہیں۔ یہ فطرت کی تخلیق کا ایک حصہ ہے۔ اس کا تعلق ہر انسان سے ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page