فطرت کا نظام
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
(4:34) یعنی ، مرد عورتوں کے اوپر قوّام ہیں۔ قوّام کے معنی عربی زبان میں نگراں اور منتظم کے ہیں۔ ’’مرد قوّام ہیں‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ مرد افضل ہے اور اس کے مقابلہ میں عورت غیر افضل ۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ خاندانی معاملات کے انتظام یا بندوبست کے لیے خالق نے یہ فطری اصول مقرر کیا ہے کہ گھر کے داخلی مجموعہ میں مرد منتظم کی ذمہ داری کو سنبھالے تا کہ خاندان کا نظام اسی طرح درست طور پر چل سکے جس طرح بقیہ کائنات کا نظام اسی اصول تنظیم کو اختیار کر کے درست طور پر چل رہا ہے۔ موجودہ زمانہ میں آزادی نسواں (women's lib) کے علمبرداروں نے صنفی برابری (gender equality) کا اصول بنایا۔ یہ اصول سراسر غیر فطری تھا۔ چنانچہ اس اصول کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ جدید سماج میں خاندانی نظام اناری کا شکار ہو گیا۔ کسی آفس میں اگر اسی طرح مساوات کارکن (workers equality) یا کسی حکومت میں اسی طرح مساوات وزراء (ministers equality) کا طریقہ رائج کیا جائے تو پورا آفس اناری کا شکار ہو جائے گا اور حکومت کا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک فکری اور عملی تضاد کی بات ہے کہ دنیا کے تمام دوسرے شعبوں کے نظام کو تو قوّامیت کے اصول پر چلایا جائے اور گھر کے داخلی نظام کو غیر قوّامیت کے اصول پر ۔ یہ تضاد یقینی طور پر غیر فطری ہے ، اس لیے وہ قابل عمل بھی نہیں۔ مرد کو عورت کے اوپر قوّام بنانا اسی طرح ایک عملی بندوبست کی بات ہے جس طرح آفس میں کارکنوں کے اوپر ایک ہیڈ (head) مقرر کیا جاتا ہے اور حکومت میں وزیروں کے اوپر ایک وزیراعظم بنایا جاتا ہے۔ قوّام کا لفظ صرف عملی بندوبست کرتا ہے نہ کہ اخلاقی معنوں میں فضیلت یا امتیاز کو۔ قوّام کے اصول کو ہمیں ایک عملی ضرورت کے طور پر لینا ہے۔ اور جہاں تک رتبہ اور درجہ کا تعلق ہے تو اس اعتبار سے عورت اور مرد کے درمیان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader