عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
تعلیم و تربیت اس نہج پر کی جائے کہ وہ معاملات میں مشورہ دینے کے قابل ہو سکے۔ مشورہ لینے میں مشورہ دینے کے قابل بنانا اپنے آپ شامل ہے۔ سماجی اعتبار سے دیکھا جائے تو کوئی عورت (یا مرد) اپنے آپ مشیر نہیں بن سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اُس کی تعلیم و تربیت اُس کے مطابق ہو۔ اس اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ اسوہ اپنے اندر ایک مکمل تصور حیات لیے ہوئے ہے۔ اُس کے اندر سماج کا ایک ایسا نقشہ نظر آتا ہے جس میں تعلیم و تربیت کے اعتبار سے ایسی سرگرمیاں جاری ہوں جو عورتوں کو اس قابل بنائیں کہ وہ سماج کا ایک صحت مند حصہ بن سکیں ۔ وہ اپنی صلاحیت کے اعتبار سے اس قابل ہوں کہ معاملات میں صحیح مشورہ دیں۔ وہ کسی معاملہ میں بحث و تبادلہ (discussion) کے وقت اپنا مفید کردار ادا کر سکیں ۔ مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کے لیے فطرت کا انمول تحفہ ہیں ۔ دونوں ایک دوسرے کے بہترین رفیق ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھیں اور اس کی رعایت کرتے ہوئے ایک دوسرے سے معاملہ کریں۔ مرد فطری طور پر مقابلہٴ اناپسند (egoist) ہوتا ہے، اور عورت فطری طور پر مقابلہٴ جذباتی (emotional) ہوتی ہے۔ دونوں کے مزاج میں یہ فرق اکثر باہمی اختلاف کا سبب بن جاتا ہے۔ اگر دونوں اس معاملہ میں باشعور ہوں اور اس فرق کو مسئلہ نہ بننے دیں تو دونوں ایک دوسرے سے بہت زیادہ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ دونوں میں سے کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اس فطری فرق کو مٹادے۔ اس لیے دونوں ہی کو یہ کرنا ہے کہ وہ فرق سے نمٹنے کا فن (art of difference management) سیکھیں اور اس کے مطابق عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی کو مشترک طور پر کامیاب بنائیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader