عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
ازدواجی زندگی کے اصول کامیاب ازدواجی زندگی کا اصول بھی وہی ہے جو کامیاب انسانی زندگی کا اصول ہے۔ انسانی زندگی کے جو مسائل ہیں وہی ازدواجی زندگی کے مسائل بھی ہیں۔ انسانی زندگی کو کامیاب بنانے کا جو طریقہ ہے ٹھیک اسی طریقہ کو اختیار کر کے ازدواجی زندگی کو بھی کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔ فطرت کا ایک ہی قانون ہے اور وہ دونوں ہی قسم کے مسائل کے لیے یکساں طور پر قابل انطباق ہے۔ فطرت کا عمومی قانون قرآن میں بہت سی آیتیں ایسی ہیں جو بظاہر مردوں کو خطاب کرتی ہیں مگر اپنے عمومی انطباق(application) کے لحاظ سے ان کا تعلق مرد اور عورت دونوں سے ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے (البلد ، 4:90) اس قرآنی آیت میں بظاہر انسان کا لفظ ہے مگر اس سے مراد مرد اور عورت دونوں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت اور مرد دونوں کو خدا نے ایک ایسی دنیا میں بسایا ہے جہاں انہیں مشقتوں کے ماحول میں اپنی زندگی کا راستہ طے کرنا ہے۔ اس آیت میں خدا نے اپنے تخلیقی نقشہ کو بتایا ہے۔ اس کے مطابق ، موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں ہر عورت اور ہر مرد کو کچھ مشقت جد و جہد کے کورس سے گزرنا ہے۔ زندگی مشقت سے بھری ہوئی جد و جہد کا نام ہے۔ اس سے بچنا نہ کسی عورت کے لیے ممکن ہے اور نہ کسی مرد کے لیے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی مسائل کا نام ہے۔ مسئلہ زندگی کا ایک ایسا لازمی حصہ ہے جس کو اس سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی عورت یا مرد جب ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہو کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader