Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 77

By Maulana Wahiduddin Khan

ازدواجی زندگی کا آغاز کرتے ہیں تو عین اُسی وقت اُن کے درمیان مسائل کا بھی آغاز ہو جاتا ہے۔ بے مسئلہ ازدواجی زندگی اس دنیا میں سرے سے ممکن ہی نہیں۔ پھر اس مسئلہ کا حل کیا ہے۔ وہ کون سا فارمولا ہے جس کے ذریعہ ازدواجی زندگی کو پُرسکون اور خوش گوار بنایا جا سکے۔ وہ فارمولا صرف ایک ہے اور وہ ایڈجسٹمنٹ (adjustment) ہے۔ جب کوئی کسی سے ایڈجسٹ کرتا ہے تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی عورت یا مرد کے ساتھ ایڈجسٹ کر رہا ہے۔ چنانچہ اُس کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ میں اپنے جیسے ایک انسان کے ساتھ کیوں ایڈجسٹ کروں۔ میں کسی کے آگے کیوں جھکوں۔ یہ سوچ کسی عورت یا مرد کے لیے ایڈجسٹمنٹ کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ یہ صرف ایک غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی آدمی جب کسی کے ساتھ ایڈجسٹ کرتا ہے تو اس کا ایڈجسٹ منٹ کسی عورت یا مرد کے ساتھ نہیں ہوتا، بلکہ اس کا ایڈجسٹ منٹ خالق فطرت کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ دراصل کوئی اور نہیں بلکہ خود خالق فطرت ہے جس نے دنیا میں ایسا نظام بنایا جہاں ایڈجسٹمنٹ کے بغیر کوئی اجتماعی کام سرے سے نہ ہو سکے۔ ایسی حالت میں ایڈ جسٹ کرنا گویا خالق فطرت کے فیصلہ پر راضی ہونا ہے۔ ایڈجسٹ منٹ کا یہ پہلو اس کو ایک ایسی چیز بنا دیتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ خدا کے انعام کا مستحق قرار پائے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو ایڈجسٹمنٹ یا یک طرفہ جھکاؤ صرف ایک اخلاقی روش نہیں، وہ ایک عبادت ہے۔ وہ خدا کی خدائی کا اعتراف کرنا ہے۔ ایڈجسٹمنٹ خدا کے حقوق میں سے ایک حق ہے اور اسی جذبہ کے تحت اس کو اختیار کرنا چاہیے۔ مثبت سوچ کی ضرورت خاندانی زندگی میں مسائل کا سبب عام طور پر صرف ایک ہوتا ہے، اور وہ ہے منفی سوچ (negative thinking)۔ ایسی حالت میں گھر یلو مسائل کے خاتمہ کا سنگل پوائنٹ فارمولا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page