Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

(single point formula) یہ ہے کہ عورت اور مرد دونوں کے اندر مثبت سوچ (positive thinking) کی صفت پیدا کی جائے۔ مثبت سوچ کی عورت یا مرد کو اونچی سوچ والا بناتی ہے، اور جن لوگوں کے اندر اونچی سوچ آ جائے وہ اپنے آپ چھوٹی باتوں میں الجھنا چھوڑ دیں گے۔ وہ زندگی گزارنے کے لیے تلخیوں اور شکایتوں سے بلند ایک سطح پالیں گے۔ فطرت کی تقسیم کے مطابق، ایسا ہے کہ ایک عورت یا ایک مرد کو ہر چیز نہیں ملتی۔ عملاً یہ ہوتا ہے کہ ایک کو کوئی چیز ملتی ہے اور دوسرے کو کوئی اور چیز۔ اب یہ ہوتا ہے کہ جو چیز کسی کو ملی ہے وہ اس کو اپنا حق سمجھ لیتا ہے، اور کوئی چیز جو دوسرے کو ملی ہے اس کے متعلق اس کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر وہ مجھ کو نہیں ملی تو وہ دوسرے کو بھی نہیں ملنی چاہیے تھی۔ اس سوچ کے نتیجہ میں حسد اور جلن جیسے جذبات پیدا ہوتے ہیں جو تعلقات کو بگاڑنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ قرآن کے مطابق، اس دنیا میں ہر چیز آزمائش کا پرچہ (test paper) ہے۔ اگر یہ ذہن ہو تو مذکورہ قسم کی منفی نفسیات کی جڑ کٹ جائے گی۔ ایسی حالت میں عورت یا مرد یہ سمجھیں گے کہ جو چیز میرے پاس ہے وہ میرے لیے ایک امتحانی پرچہ ہے اور جو چیز دوسرے کے پاس ہے وہ بھی اس کے لیے ایک امتحانی پرچہ ہے۔ اسی لیے میرا دھیان تمام تر اس پر ہونا چاہیے کہ میں اپنے امتحان میں فیل نہ ہوں۔ میں اپنے آزمائشی پرچہ میں خدا کی نظر میں ناکام نہ ٹھہروں۔ عورت اور مرد کے اندر اگر یہ فکر ہو تو اکثر خاندانی برائیوں کی جڑ اپنے آپ کٹ جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ مثبت سوچ (positive thinking) تمام خوبیوں کی جڑ ہے، اور اس کے مقابلہ میں منفی سوچ (negative thinking) تمام برائیوں کی جڑ۔ تاہم یہ سادہ معنوں میں صرف ایک اخلاقی روش کی بات نہیں ۔ وہ ایک مومن کے ایمان کی پہچان ہے۔ مومن وہ ہے جو خدا کو معرفت کے درجہ میں پالے۔ جس کو خدا سے برتری کی دریافت ہو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page