عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 79
By Maulana Wahiduddin Khan
جائے۔ ایسے انسان کی پہچان یہ ہے کہ اس کے اندر تخلقوا باخلاق الله (اللہ کا اخلاق اختیار کرنے) کا مزاج آجاتا ہے۔ مثبت طرز فکر اس کی غذا بن جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں منفی طرز فکر کو اس کی روح قبول نہیں کرتی۔ وہ منفی طرز فکر سے اسی طرح دور ہو جاتا ہے جس طرح ایک خوش ذوق انسان بد ذوقی کی باتوں سے۔ عورت اور مرد عورت اور مرد کا رشتہ بے حد نازک رشتہ ہے۔ اس معاملہ میں ایک غلطی کسی کی پوری زندگی کو تباہ کر سکتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے گروہ خواتین، میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو عقل اور دین میں کم ہونے کے باوجود کسی دانشمند آدمی کی عقل کو اس طرح کھا جائے جس طرح تم عورتوں میں سے کوئی عورت کسی مرد کی عقل کو کھا جاتی ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر (1462)۔ اس حدیث میں عورت بحیثیت جنس مراد نہیں ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر پیدا ہونے والی عورت ایسی ہی ہوتی ہے۔ بلکہ اس سے مراد بعض عورتیں ہیں۔ یعنی عورتوں میں سے کوئی عورت ایسی ہوتی ہے جو کسی مرد کی عقل کو اس طرح گم کر دے کہ وہ اپنی ساری دانش مندی کے باوجود بے عقل بن کر رہ جائے۔ یہ عورت کون ہے۔ یہ عورت وہ ہے جس کی خود غرضی اس کے انصاف کے جذبہ پر غالب آجائے۔ وہ مرد کو مشورہ دیتے ہوئے سنجیدگی، دیانت داری اور انصاف کے تقاضوں کو بھول جائے اور صرف اپنے ذاتی مفاد کے لیے مرد کو غلط مشورہ دے۔ ایسی عورت سماج کے لیے ایک مصیبت ہے۔ وہ اپنی اس منفی صفت سے اپنے آپ کو جنت کے لیے نااہل بنا رہی ہے۔ کوئی عورت یہ کام اپنے حقیر مفادات کے لیے کرتی ہے۔ وہ مرد کے ذہن کو خاموشی کے ساتھ متاثر کرتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ مرد بھی شعوری یا غیر شعوری طور پر اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader