عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیر مفادات میں اس کے ساتھ شریک ہو جاتا ہے ۔ وہ خدا کی طرف سے بہترین عقل لے کر پیدا ہوتا ہے ۔ وہ علم و عمل کی دنیا میں بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتا ہے ۔ مگر عورت کے فریب میں آکر اس کے اندر ذہنی ترقی کا عمل رک جاتا ہے ۔ اس کے لیے عملاً یہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ وہ کسی بڑی بات کے لیے سوچے، وہ کسی بڑے مقصد کو اپنا نشانہ بنائے ۔ حالانکہ زندگی اس سے زیادہ قیمتی ہے کہ اس کو مقصد اعلیٰ سے کمتر کسی چیز میں استعمال کیا جائے۔ خدا پر بھروسہ قرآن میں طلاق کے ذکر کے تحت کچھ نصیحتیں کی گئی ہیں ۔ یہ نصیحتیں قرآن کی سورہ الطلاق میں آئی ہیں۔ متعلقہ آیتوں کا ترجمہ یہ ہے : اے پیغمبر، جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت پر طلاق دو اور عدت کو گنتے رہو، اور اللہ سے ڈرو جو تمھارا رب ہے۔ ان عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، الا یہ کہ وہ کوئی کھلی بے حیائی کریں، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، اور جو شخص اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا تو اس نے اپنے اوپر ظلم کیا، تم نہیں جانتے شاید اللہ اس طلاق کے بعد کوئی نئی صورت پیدا کر دے۔ پھر جب وہ اپنی مدت کو پہنچ جائیں تو ان کو یا تو معروف کے مطابق رکھ لو یا معروف کے مطابق ان کو چھوڑ دو اور اپنے میں سے دو معتبر گواہ کر لو اور ٹھیک ٹھیک اللہ کے لیے گواہی دو۔ یہ اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔ اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے لیے راہ نکالے گا، اور اس کو وہاں سے رزق دے گا جہاں اس کا گمان بھی نہ گیا ہو، اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرے گا تو اللہ اس کے لیے کافی ہے، بے شک اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے، اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ ٹھہرارکھا ہے(65:1-3)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader