Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

طلاق شوہر اور بیوی کے درمیان ایک بحران (crisis) کی حالت ہے۔ اس طرح کے چھوٹے یا بڑے کرائسس خاندانی زندگی میں برابر آتے رہتے ہیں۔ مذکورہ آیت میں ایک اہم نصیحت کی گئی ہے جو کرائسس مینجمنٹ (crisis management) کے لیے بنیادی اصول کی حیثیت رکھتی ہے ۔ یہ بنیادی اصول قرآن کے لفظ میں توکل ہے، یعنی ہر صورت حال میں اللہ پر بھروسہ کرنا اور معاملہ کو پوری طرح اللہ کے اوپر ڈال دینا۔ بحران دراصل اس حالت کا نام ہے جب کہ کسی عورت یا مرد کے سامنے ایک ایسی صورت حال آجائے جس میں وہ بظاہر اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہو ۔ اگر مسئلہ ایسا ہو جس کو حل کرنا اس کے اختیار میں ہو تو ایسا مسئلہ اس کے لیے وہ چیز نہیں بنے گا جس کو بحران کہتے ہیں۔ بحران صرف اس صورت حال کا نام ہے جب کہ وہ یہ محسوس کرے کہ مسئلہ کو حل کرنے کے لیے اس کی دستیاب صلاحیت کافی نہیں ۔ دوسرے لفظوں میں، اپنی محدودیت (limitations) کے احساس کا نام بحران ہے۔ ایسی حالت میں اگر عورت یا مرد کا ذہن اپنی محدودیت پر لگا رہے تو وہ صرف اپنی پریشانی میں اضافہ کرے گا۔ ایسی حالت میں سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے دائرہ میں جو کر سکتا ہے وہ کرے اور بقیہ کو خدا کے خانہ میں ڈال دے ۔ وہ معتدل انداز میں اپنی کوشش کرتے ہوئے انجام کے معاملہ میں خدا کی ذات پر بھروسہ کرے ۔ اس طریقہ کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ متعلقہ عورت یا مرد کا ذہن فوری طور پر معتدل ہو جاتا ہے، یہ چیز اس کو منفی سوچ سے ہٹا کر مثبت سوچ کی طرف موڑ دیتی ہے۔ وہ اس پوزیشن میں ہو جاتا ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو بھر پور طور پر مسئلہ کے حل کے لیے استعمال کر کے ۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ فطرت کے نظام کو اپنا کام کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ انسانی جسم کے اندر یہ نظام ہے کہ اس میں کوئی خلل واقع ہو تو فوراً پورا جسم اس کو درست کرنے کے لیے متحرک ہو جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page