عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی معاملہ وسیع تر زندگی کا بھی ہے۔ زندگی میں جب کوئی بحران پیدا ہو تو فطرت کا نظام فوراً اس کی درستگی کے لیے حرکت میں آ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں اللہ پر توکل کر کے اپنے کو تھام لینا گو یا فطرت کے نظام کو اپنا کام کرنے کا موقع دینا ہے، یہ موقع کہ وہ متحرک ہو کر معاملہ کو درست کر دے۔ بحران کے حل کا یہ فارمولا بلاشبہ ایک کامیاب فارمولا ہے۔ وہ ہر صورت حال میں قابل استعمال ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ عورت یا مرد پر جب بھی ایسی کوئی چھوٹی یا بڑی صورت حال پیش آئے تو وہ سوچے ۔ ایسے موقع پر وہ سوچ سے اپنے عمل کا آغاز کرے، نہ کہ اقدام سے۔ یہی کرائسس مینجمنٹ کا سب سے زیادہ کار گر فارمولا ہے۔ والدین فطری معلم ماں اور باپ اپنی اولاد کے فطری معلم ہیں ۔ قرآن و حدیث میں ماں اور باپ کی اطاعت پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اپنے والدین کو اُف نہ کہو اور نہ ان کو جھڑک کو اور ان سے احترام کے ساتھ بات کرو اور ان کے سامنے نرمی سے عجز کے بازو جھکا دو (23:17-24)۔ اسی طرح حدیث میں والدین کے عزت و احترام کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ ماں اور باپ اپنی اولاد کے سب سے بڑے خیر خواہ ہوتے ہیں ۔ ان سے بہتر ناصح اور کوئی نہیں۔ اسی لیے اسلام کا یہ منشا ہے کہ اولاد کے اندر اپنے باپ اور ماں کے لیے انتہائی عزت و احترام کا ماحول پیدا کیا جائے تا کہ ماں باپ کی طرف سے آنے والی ہر نصیحت کو وہ دل کی گہرائی کے ساتھ قبول کر سکیں۔ ہر پیدا ہونے والا بچہ اپنے بچپن کی عمر میں ایک نا تجربہ کار شخص ہوتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں اس کے ماں باپ کی حیثیت تجربہ کار سرپرست کی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماں اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader