Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 83

By Maulana Wahiduddin Khan

باپ ہر پیدا ہونے والے عورت اور مرد کے سب سے بہتر معلم اور مربی ہوتے ہیں۔ اپنے بچوں کے حق میں ماں باپ کی محبت اس تعلق کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔ ازدواجی زندگی کے مسائل کا قریبی فطری حل یہ ہے کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنے والدین کو اپنا ازدواجی مشیر بنالیں۔ کیوں کہ ایک لڑکا اور ایک لڑکی جس ازدواجی زندگی کو شروع کرنے جارہے ہیں اُس ازدواجی زندگی کا تجربہ اُن کے والدین پہلے ہی کر چکے ہیں۔ اس معاملہ میں والدین اُن کے لیے ایسے صحیح مشیر کی حیثیت رکھتے ہیں جو اُن کے سچے خیر خواہ بھی ہیں، اور اسی کے ساتھ وہ اُس زندگی کا عملی تجربہ بھی کر چکے ہیں جس کی بابت اُنہیں مشورہ کا کام انجام دینا ہے۔ تاہم والدین اپنی اس ذمہ داری کو صرف اس وقت ادا کر سکتے ہیں جب کہ ان کا مشورہ صرف محبت اولاد کے جذبہ کے تحت نہ ہو بلکہ وہ تجربات کی روشنی میں حقیقت پسندانہ مزاج کے تحت ہو۔ کامیاب زندگی کا سب سے بڑا راز حقیقت پسندی ہے۔ سب عورتیں یکساں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت کبھی شیطان کی صورت میں آگے آتی ہے اور کبھی وہ شیطان کی صورت میں پیچھے جاتی ہے۔ جب تم میں سے کوئی شخص کسی غیر عورت کو دیکھے اور وہ اُس کو پسند آئے اور وہ اُس کے دل میں اُتر جائے تو وہ اپنی بیوی کا قصد کرے اور وہ اُس سے ملے کیوں کہ اس کی وجہ سے اُس کے دل میں جو ہے وہ اُس سے نکل جائے گا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1403)۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی غیر عورت کو دیکھے اور وہ اُس کو اچھی لگے تو وہ اپنی بیوی کے پاس چلا جائے۔ کیوں کہ اُس کے پاس بھی وہی ہے جو دوسری عورت کے پاس ہے (سنن الدارمی، حدیث نمبر 2261)۔ ان روایات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خوبصورتی دراصل جنت کی چیز ہے، اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page