Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ جنت ہی میں کسی خوش نصیب انسان کو ملے گی۔ خوبصورتی موجودہ دنیا کی چیز ہی نہیں۔ اگر کوئی مرد کسی غیر عورت کو دیکھے اور وہ اس کو اچھی لگنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ یہ شیطان کا فریب تھا۔ شیطان کا یہ فریب صرف اُس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک وہ عورت اُس کو بیوی کی حیثیت سے نہ لے۔ بیوی کی حیثیت سے ملنے کے بعد شیطان کا خوش نما پردہ اُس سے ہٹ جاتا ہے اور وہی عورت اُس کو ایک عام عورت دکھائی دینے لگتی ہے جو پہلے اُس کو دل کش صورت میں دکھائی پڑی تھی۔ ایسی حالت میں ہر عقلمند آدمی کو یہ کرنا چاہیے کہ جب وہ کسی اجنبی عورت کو دیکھے اور وہ اُس کو اچھی لگے تو وہ اُس کو نظر کا دھو کہ سمجھے ۔ وہ واپس ہو کر اپنی بیوی کے پاس آجائے۔ کیوں کہ فطرت کی تخلیق کے مطابق، اُس کی اپنی بیوی کے پاس بھی وہی نسوانیت ہے جو اُس کو اجنبی عورت کے یہاں نظر آئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ بظاہر ایک غیر خوبصورت عورت بھی اُسی طرح کی ایک نسوانی شخصیت ہے جیسا کہ بظاہر ایک خوبصورت عورت ۔ جدید دنیا میں لو میرج کے باوجود طلاق کی کثرت کا سبب یہی ہے ۔ جب یہ لوگ شادی سے پہلے بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کی حیثیت سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں تو ایک فریب نظر کے تحت دونوں غیر حقیقی طور پر ایک دوسرے کو خوبصورت سمجھ لیتے ہیں۔ مگر جب یہی لوگ شادی کے بعد بوائے ہبنڈ اور گرل وائف کی حیثیت سے ایک دوسرے کو پا کر ایک ساتھ رہنا شروع کرتے ہیں تو جلد ہی پچھلی کشش ختم ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اکتاتروہ ایک دوسرے سے جُدا ہو جاتے ہیں۔ جو عورت یا مرد اس حقیقت کو جان لے وہ فریب نظر میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں گے۔ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنا لیں گے کہ وہ اپنی زندگی کو زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں گزاریں، وہ اپنی زندگی کو زیادہ با معنیٰ زندگی بناسکیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page