عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
بدگمانی فساد کی جڑ قرآن میں ظن (گمان) سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ بعض ظن گناہ ہوتے ہیں (الحجرات، 49:12)۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم گمان سے بہت زیادہ پر ہیز کرو۔ کیوں کہ گمان سب سے بڑا جھوٹ ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر (6064)۔ انسانی تعلقات میں بگاڑ کا سب سے بڑا سبب بدگمانی ہوتا ہے۔ خاندانی زندگی ہو یا سماجی زندگی، ہر جگہ جب تعلقات بگڑتے ہیں تو اس کا سبب زیادہ تر بدگمانی ہوتا ہے۔ خواہ تعلقات کا یہ معاملہ شوہر اور بیوی کے درمیان ہو یا وسیع تر معنوں میں سماجی افراد کے درمیان۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک سے دوسرے کو کوئی بات پہنچتی ہے تو تقریباً ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ یہ بات اپنی ٹھیک ٹھیک صورت میں نہیں پہنچتی بلکہ وہ بیان کرنے میں گھٹ جاتی ہے یا بڑھ جاتی ہے۔ اب سننے والا یہ کرتا ہے کہ وہ جو کچھ سنتا ہے اس کو اسی طرح مان لیتا ہے۔ اسی سے بدگمانی پیدا ہوتی ہے اور تعلقات میں بگاڑ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس معاملہ میں صحیح اصول یہ ہے کہ اگر کسی کے بارے میں اچھی بات معلوم ہو تو اس کو بلا تحقیق مان لینے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص کسی کے بارے میں بری بات کہے تو ایسی بات کو بلا تحقیق ماننا چاہیے۔ بری بات کو یا تو سن کر اپنے دماغ سے نکال دینا چاہیے یا پھر اس وقت اس کو ماننا چاہیے جب کہ اس کے بارے میں ہر قسم کی ضروری تحقیق کر لی گئی ہو۔ بدگمانی کا ایک سبب اور ہے، وہ یہ کہ بیوی اپنے شوہر کی کسی بات کو دیکھے یا شوہر اپنی بیوی کی کسی بات کو دیکھے اور اس پر وہ مزید تحقیق کے بغیر ایک رائے قائم کرلے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ اس قسم کا مشاہدہ ہمیشہ جزئی ہوتا ہے، کوئی بھی مشاہدہ مکمل مشاہدہ نہیں ہوتا۔ ایسے حالات میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader