Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

صرف ایک مشاہدہ پر رائے قائم کرنا اکثر اوقات سخت غلط فہمی کا سبب بن جاتا ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ جب بھی آپ کسی کے بارے میں کوئی مشاہدہ کریں اور اس مشاہدہ کا کوئی برا پہلو آپ کے ذہن میں آرہا ہو تو ایسے مشاہدہ کی بنیاد پر کبھی یک طرفہ طور پر رائے قائم نہیں کرنا چاہیے۔ اس طرح کے معاملہ میں ضروری ہے کہ مشاہدہ کرنے والا اپنے ساتھی سے اس کی مزید تفصیل دریافت کرے اور ساتھی کو چاہیے کہ وہ برا مانے بغیر اس کو پوری بات بتائے۔ ایسا طریقہ اختیار کرنے سے ابتداء ہی میں فساد کی جڑ کٹ جائے گی اور مشاہدہ کسی سنگین نتیجہ تک نہیں پہنچے گا۔ خوش گمانی یا بدگمانی اسلام میں صرف ایک اخلاقی صفت نہیں۔ اس کی اہمیت اس سے زیادہ ہے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق، بدگمانی ایک ایسی برائی ہے جو آدمی کو خدا کی رحمت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں خوش گمانی ایک ایسی نیکی ہے جو کسی عورت یا مرد کو خدا کی رحمت کا مستحق بناتی ہے، اور آخر کار اُس کو ابدی جنت میں پہنچادیتی ہے۔ خوش گمانی اگر جنت کا ٹکٹ ہے تو بدگمانی جہنم کا ٹکٹ۔ منفی سوچ سے بچنا ابو ہریرہ کی ایک روایت ہے۔ اس میں وہ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی بہن (سوکن) کے طلاق کے لیے اپنے شوہر سے مطالبہ کرے تا کہ وہ اُس کے پیالہ کو خالی کرلے (اور اپنا پیالہ بھرے)۔ کیوں کہ اُس کے لیے وہ ہے جو اُس کے لیے مقدر کیا گیا ہے: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تَسْأَلُ طَلَاقَ أُخْتِهَا، لِتَسْتَفْرِغَ صَحَفَتَهَا، فَإِنَّمَا لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5152)۔ ابن عبدالبر نے اس حدیث میں اخت (بہن) سے مراد سوکن لیا ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی عورت کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page